کانپور: ضلع کے بلہور علاقے میں ایک مندر کے قریب ممنوعہ جانوروں (گائے )کی باقیات ملنے کے معاملے میں بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے پولیس کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر گائے کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا تو کانپور میں مساجد کے سامنے سور کے گوشت کے ٹکڑے ملیں گے۔ بی جے پی رکن اسمبلی راہل سونکر اپنے حامیوں کے ساتھ تھانے پہنچے اور پولیس اہلکاروں کو وارننگ دی۔
دو ملزم گرفتار
تاہم پولیس نے وارننگ کے بعد بڑی کارروائی کی ہے۔ پولیس نے منگل کو دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس معاملے میں لاپرواہی برتنے کے الزام میں بلہور کے تھانہ انچارج سمیت چار پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی پیر کو جانوروں کے باقیات ملنے کے خلاف مقامی لوگوں اور ہندو تنظیموں کے کارکنوں کے احتجاج کے بعد کی گئی ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ پیر کی شام سامنے آیا، جب دیہاتیوں نے بلہور کے گڑھن پور علاقے میں ایک مندر کے قریب جانوروں (گائے )کے باقیات، گوشت، ہڈیاں اور کھالیں دیکھیں اور پولیس کو اطلاع دی۔ باقیات کی ایک ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس سے علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی۔
وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل
انہوں نے بتایا کہ اس کے فورا ًبعد وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکن بڑی تعداد میں موقع پر پہنچے اور احتجاج کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ باقیات جان بوجھ کر مذہبی مقام کے قریب رکھی گئی تھیں۔ حکام کے مطابق، مظاہرین نے شاکر اور ایک دیگر مقامی باشندے رحمان پر گائے کے ذبح میں شامل ہونے کا الزام لگایا اور ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مقامی پولیس اہلکاروں پر بھی ملی بھگت کا الزام لگایا۔
انہوں نے بتایا کہ موقع کے معائنے اور ابتدائی جانچ کے بعد مشترکہ پولیس کمشنر آشو توش کمار نے بلہور کے تھانہ انچارج اشوک کمار سروج، چوکی انچارج پریم ویر سنگھ، بیٹ افسر آفتاب عالم اور ہیڈ کانسٹیبل دلیپ گنگوار کو ڈیوٹی میں لاپرواہی کے الزام میں معطل کر دیا۔ کمار کے مطابق، اس معاملے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور چار دیگر کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
لاپرواہی پر سخت کارروائی
انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ لاپرواہی پر سخت کارروائی کی گئی ہے۔ ابتدائی جانچ میں پتہ چلا کہ جائے وقوعہ بلہور تھانے کے ڈیڑھ کلو میٹر کے دائرے میں آتا ہے اور مسلسل گشت کے دعوؤں کے باوجود ایسی واردات کا ہونا پولیس کی سنگین لاپرواہی کو ظاہر کرتا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ہندو تنظیموں کے کارکنوں کے ہنگامے کے دوران پانچ کاروں میں توڑ پھوڑ کی گئی، تاہم صورت حال کو فوری طور پر قابو میں کر لیا گیا۔ مقامی باشندوں اور ہندو تنظیموں نے الزام لگایا کہ جانوروں کے باقیات جان بوجھ کر گوری کٹرا سڑک پر واقع درگا مندر کے قریب پھینکی گئی تھیں۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس نے پہلے کی شکایات پر توجہ نہیں دی تھی۔ اس واقعے کو لے کر منگل کو بھی احتجاج کیے گئے۔ آج تقریبا 100 وکلا نے مارچ نکالا اور وزیر اعلی کے نام ایک یادداشت سب ڈویژنل مجسٹریٹ سنجیو دکشت کو سونپی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی راہل سونکر نے ایڈیشنل پولیس ڈپٹی کمشنر کپل دیو سنگھ سمیت سینئر افسران سے ملاقات کی۔
تھانہ احاطے میں جئے شری رام کے نعرے
انہوں نے الزام لگایا کہ برآمد شدہ باقیات کی مقدار طویل عرصے سے جاری غیر قانونی سرگرمی کا اشارہ دیتی ہے۔ انہوں نے پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔ رکن اسمبلی کے بلہور تھانے کے دورے کے دوران ان کے حامیوں نے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے اور قصورواروں کو سزائے موت دینے اور ان کے خلاف بلڈوزر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تھانہ احاطے کے اندر جئے شری رام کے نعرے بھی لگائے گئے۔ سینئر حکام نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے علاقے میں صوبائی مسلح کانسٹیبلری کے جوان تعینات کر دیے گئے ہیں۔ صورت حال قابو میں ہے۔
باقیات کا ہوگا پوسٹ مارٹم
قصوروار پائے جانے والے کسی بھی شخص کے خلاف اس کی شناخت کی پرواہ کیے بغیر سخت کارروائی کی جائے گی۔ پولیس حکام کے مطابق، ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ جانوروں کی باقیات قبرستان کی چار دیواری سے ملحق ایک کھیت میں ٹین کے باڑے کے اندر چھپائی گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کھیت مقامی باشندے شاکر کا ہے اور جانوروں کی باقیات قریب ہی ایک شیڈ میں بھی ملیں، جو مبینہ طور پر شاکر کا ہی ہے۔ باقیات کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لیے ویٹرنری ڈاکٹروں کو بلایا گیا، جبکہ سینئر پولیس افسران کی ہدایت پر شیڈ کو سیل کر دیا گیا۔