National News

ایک ایسا ملک جہاں بینگنی رنگ پہننے پر ملتی تھی ''سزائے موت''، جانئے کیوں؟

ایک ایسا ملک جہاں بینگنی رنگ پہننے پر ملتی تھی ''سزائے موت''، جانئے کیوں؟

 انٹر نیشنل ڈیسک : آج کے دور میں بینگنی(Purple) رنگ کا لباس پہننا بالکل عام بات ہے، لیکن تاریخ میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب اس رنگ کو پہننے کی غلطی کرنے پر کسی بھی عام انسان کو سرِعام موت کی سزا دی جا سکتی تھی۔ قدیم رومی سلطنت سے لے کر ملکہ الزبتھ کے دور کے انگلینڈ تک بینگنی رنگ صرف فیشن نہیں بلکہ طاقت اور شاہی اقتدار کی سب سے بڑی علامت تھا۔
 بینگنی رنگ سونے سے بھی مہنگا کیوں تھا؟
قدیم زمانے میں بینگنی رنگ کی قیمت ہیرے جواہرات سے بھی کہیں زیادہ تھی۔ اس کی نایابی کے پیچھے ایک حیران کن وجہ تھی۔ اس دور میں آج کی طرح کیمیائی رنگ موجود نہیں تھے۔ مشہور' ٹائرین بینگنی ' (Tyrian Purple)رنگ بحیرہ روم میں پائے جانے والے ایک سمندری گھونگھے، جسے میوریکس (Murex) کہا جاتا ہے، سے نکالا جاتا تھا۔ اس رنگ کو تیار کرنے کا عمل اتنا پیچیدہ تھا کہ صرف ایک گرام رنگ بنانے کے لیے تقریبا ًنو ہزار گھونگھوں کی جان لینی پڑتی تھی ۔ اسی نایابی کی وجہ سے بینگنی کپڑا سونے کے وزن کے برابر یا اس سے بھی زیادہ مہنگا فروخت ہوتا تھا۔

PunjabKesari
 رومی اور برطانوی سلطنت کے سخت قوانین 
چونکہ یہ رنگ بے حد قیمتی تھا، اس لیے اسے اقتدار کی علامت بنا دیا گیا۔
 قدیم روم: رومی قانون کے مطابق صرف بادشاہ اور ان کے خاندان کے افراد ہی مکمل طور پر بینگنی  رنگ کے کپڑے پہن سکتے تھے۔ اگر کوئی عام شہری ایسا کرتے ہوئے پکڑا جاتا تو اسے غداری سمجھا جاتا تھا اور اسے پھانسی تک کی سزا دی جا سکتی تھی۔
الزبتھ دور کا انگلینڈ :  صدیوں بعد ملکہ الزبتھ اول نے انگلینڈ میں' سمپچوری قوانین'  (Sumptuary Laws) نافذ کیے۔ یہ قوانین طے کرتے تھے کہ کسی شخص کو اپنی سماجی حیثیت کے مطابق کیا پہننے کی اجازت ہے۔ بینگنی  رنگ صرف شاہی خاندان کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانہ، قید یا جائیداد کی ضبطی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

PunjabKesari
 ایک غلطی جس نے تاریخ بدل دی 
ہزاروں سالوں سے چلا آ رہا یہ شاہی اختیار سن 1856 میں ایک سائنسی تجربے کے دوران اچانک ختم ہو گیا۔
 ولیم ہنری پرکن کی ایجاد:  صرف 18سال کا ایک کیمسٹ  ولیم ہنری پرکن ملیریا کی دوا کوئنین  بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ تجربے کے دوران اس کے برتن میں ایک گہرا بینگنی  مادہ تیار ہو گیا۔
 سنتھیٹک ڈائی (مصنوعی رنگ ) : پرکن نے انجانے میں دنیا کا پہلا سنتھیٹک ڈائی، مووین، دریافت کر لیا تھا۔ اب جامنی رنگ کو گھونگھوں کے بجائے کارخانوں میں تیار کرنا ممکن ہو گیا۔
 سب کے لیے دستیاب:  اس ایجاد کے بعد جامنی رنگ اتنا سستا اور عام ہو گیا کہ عام لوگ بھی اسے پہننے لگے۔ آہستہ آہستہ شاہی پابندیوں کی کوئی اہمیت نہ رہی اور یہ قوانین تاریخ کے اوراق میں دفن ہو گئے۔



Comments


Scroll to Top