نیشنل ڈیسک: حال ہی میں بین الاقوامی سیاست میں وینزویلا نے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ امریکہ کی فوجی کارروائی کے تحت وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ لیکن وینزویلا صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر ہی زیرِ بحث نہیں ہے۔ یہ ملک اپنے وسیع قدرتی وسائل اور تیل کے ذخائر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
ناقابلِ یقین حد تک سستا پٹرول
وینزویلا میں پٹرول کی قیمتیں انتہائی کم ہیں۔ یہاں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت0.01 سے 0.035 ڈالر کے درمیان ہے، یعنی ہندوستانی کرنسی میں محض ایک سے تین روپے فی لیٹر۔ اس وجہ سے عام آدمی کی جیب پر بہت معمولی اثر پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر35 سے 50 لیٹر گنجائش والے فیول ٹینک کو بھرنے کے لیے صرف 50 سے ڈیڑھ سو روپے خرچ ہوتے ہیں، جبکہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں اس کی قیمت ہزاروں میں ہوتی ہے۔
دوہرا ایندھن نظام
وینزویلا میں پٹرول کی فروخت میں دوہرا ایندھن نظام نافذ ہے۔ اس میں ایک طرف سبسڈی والا پٹرول ہے، جو عام عوام کے لیے انتہائی سستا ہے۔ دوسری طرف پریمیم پٹرول کا آپشن ہے، جس کی قیمت بین الاقوامی منڈی کے حساب سے طے ہوتی ہے اور یہ کافی مہنگا ہوتا ہے۔ پریمیم پٹرول کی قیمت تقریباً 42 روپے فی لیٹر ہے۔ اگر کوئی گاڑی چلانے والا اپنی 50 لیٹر کی ٹنکی بھرواتا ہے تو اسے تقریبا 20 سے 25 ڈالر یعنی 1700 سے2100 روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ یہ دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں سستا ہے، لیکن ملک کے مقامی سبسڈی والے نرخ سے کافی زیادہ ہے۔
سعودی عرب سے بھی بڑا تیل کا ذخیرہ
وینزویلا کی سستی ایندھن پالیسی کے پیچھے اس کا وسیع تیل کا ذخیرہ ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق،2023 تک وینزویلا کے پاس 303 ارب بیرل تیل موجود تھا۔ یہ تعداد سعودی عرب کے 267.2 ارب بیرل اور ایران کے208.6 ارب بیرل سے بھی زیادہ ہے۔ کینیڈا چوتھے نمبر پر ہے، جس کے پاس163.6 ارب بیرل تیل ہے۔
تیل کی آمدنی اور معاشی چیلنجز
اتنا بڑا ذخیرہ ہونے کے باوجود وینزویلا اپنے تیل کی برآمدات سے اتنی آمدنی حاصل نہیں کر پاتا جتنی وہ کر سکتا تھا۔ ملک مسلسل معاشی بحران اور مالی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ صدر مادورو کی حراست کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ملک کی تیل پر مبنی معیشت اور پٹرول کی قیمتوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔