واشنگٹن: امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے خلاف کی گئی حالیہ فوجی کارروائی میں سب سے پہلے ماراکائے میں واقع ' ایل لیبرتاڈور ایئر بیس' کو نشانہ بنانے کے پیچھے اب اس کی تزویراتی وجوہات سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی حکام اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایئر بیس وینزویلا کی فوجی فضائی صلاحیت کا سب سے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ایل لیبرتاڈور ایئر بیس وینزویلا کی بولیویریئن ملٹری ایوی ایشن کا صدر دفتر ہے۔ یہی سے ملک کے لڑاکا طیاروں، ڈرون یونٹس اور بڑے فوجی آپریشنز کی نگرانی اور قیادت کی جاتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس بیس پر ایران میں تیار کردہ مہاجر 6 ڈرون سمیت جدید فوجی پلیٹ فارمز تعینات ہیں، جو نگرانی اور حملے دونوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
🚨🇻🇪🇺🇸 U.S. HELICOPTERS POUND VENEZUELA'S MILITARY HQ IN CARACAS
U.S. helicopters are now actively striking the Fuerte Tiuna military complex in Caracas.
The site, which houses Venezuela’s Ministry of Defense, is under sustained aerial assault.
Explosions, fire, and ongoing… https://t.co/5nWGiMq7R3 pic.twitter.com/E6YmizbtSA
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) January 3, 2026
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے فوجی آپریشن میں سب سے پہلی ترجیح دشمن کی فضائی صلاحیت کو ناکارہ بنانا ہوتی ہے۔ ایل لیبرتاڈور ایئر بیس پر ابتدائی حملہ اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، تاکہ وینزویلا جوابی فضائی کارروائی نہ کر سکے اور اس کا کمانڈ نظام متاثر ہو جائے۔ اس بیس کو نقصان پہنچنے سے لڑاکا طیاروں کی تعیناتی، ڈرون آپریشنز، فوجی نگرانی اور باہمی رابطے پر براہ راست اور وسیع اثر پڑتا ہے۔ یہ ایئر بیس صرف پروازوں تک محدود نہیں ہے بلکہ فوجی تربیت، تزویراتی منصوبہ بندی اور کمانڈ کنٹرول نظام کا بھی مرکزی مرکز ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس مقام کے کمزور ہونے سے وینزویلا کی پوری دفاعی ساخت متاثر ہو سکتی ہے۔
ایل لیبرتاڈور ایئر بیس کو وینزویلا کی سیاسی تاریخ میں بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ سن 1992 میں ناکام فوجی بغاوت کی کوششوں میں اس بیس کا کردار رہا تھا، جن میں سابق صدر ہوگو چاویز بھی شامل تھے۔ اسی وجہ سے یہ مقام تزویراتی کے ساتھ ساتھ علامتی طور پر بھی حساس سمجھا جاتا ہے۔ فوجی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو آنے والے دنوں میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار اسٹیشن اور فوجی رسد کے مراکز بھی نشانے پر آ سکتے ہیں، تاکہ علاقے میں مکمل فضائی برتری حاصل کی جا سکے۔
تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان اندازوں کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہو سکی ہے اور حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اس پیش رفت سے لاطینی امریکہ اور عالمی برادری میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ وینزویلا کی حکومت نے امریکی کارروائی کو خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ واشنگٹن اسے سلامتی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف اقدام بتا رہا ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ یہ کشیدگی محدود رہے گی یا کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔