نئی دہلی: جی 7 کے چھ ارکان جاپان، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی—اور نیدرلینڈز نے تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے اور توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کی کوششوں میں شامل ہونے کی آمادگی ظاہر کی ہے
انہوں نے شہری انفراسٹرکچر بشمول تیل اور گیس کی تنصیبات پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی۔ سات ممالک کے رہنماوں نے جمعرات کی رات جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا، "ہم خلیج میں نہتے تجارتی جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں، تیل اور گیس کی تنصیبات سمیت شہری انفراسٹرکچر پر حملوں، اور ایرانی افواج کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔" انہوں نے بڑھتے ہوئے تنازع پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا اور ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی دھمکیوں، بارودی سرنگیں بچھانے، ڈرون اور میزائل حملوں اور تجارتی جہاز رانی کو روکنے کی دیگر کوششوں کو فوری طور پر بند کرے۔
انہوں نے ایران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی تعمیل کرنے پر بھی زور دیا۔ بیان میں کہا گیا، "یو این ایس سی قرارداد 2817 کے مطابق، ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بین الاقوامی جہاز رانی میں ایسی مداخلت اور توانائی کی عالمی سپلائی چین میں خلل بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔" انہوں نے شہری انفراسٹرکچر بشمول تیل اور گیس کی تنصیبات پر حملوں پر فوری اور جامع روک تھام کا مطالبہ کیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جہاز رانی کی آزادی بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے، جس میں اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کے تحت حقوق بھی شامل ہیں۔"
بیان میں کہا گیا کہ ایران کے اقدامات کے اثرات دنیا کے تمام حصوں کے لوگ محسوس کریں گے، خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور طبقات۔ "ہم آبنائے کے ذریعے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب کوششوں میں تعاون کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم ان ممالک کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں جو اس حوالے سے ابتدائی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔"
اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کے مربوط اجرا کی اجازت دینے کے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے ) کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے، انہوں نے توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کرنے کے لیے دیگر اقدامات کرنے کا عزم کیا، جس میں پیداوار بڑھانے کے لیے تیل اور گیس پیدا کرنے والے مخصوص ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ذریعے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کو مدد فراہم کرنے کے لیے بھی کام کریں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا،بحری سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی سے تمام ممالک کو فائدہ ہوتا ہے۔ ہم تمام ریاستوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور بین الاقوامی خوشحالی اور سلامتی کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھیں۔" اگرچہ اس مشترکہ بیان کے لیے کسی مخصوص فزیکل میٹنگ کی اطلاع نہیں ملی، لیکن یہ 11 مارچ کو جی 7 رہنماوں کی ایک ورچوئل میٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے جہاں رہنماو¿ں نے مشرق وسطیٰ کی ابتر صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی تھی۔