نیشنل ڈیسک: کرکٹ کی دنیا میں اس وقت سب کی نظریں جمی رہ گئیں جب دی ہنڈرڈ لیگ کی نیلامی میں ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ سن رائزرز حیدرآباد کی مالک کاویہ مران کی ٹیم نے نیلامی میں پاکستان کے ایک کھلاڑی کو خرید کر سب کو حیران کر دیا۔ یہ فیصلہ اس لیے بھی گفتگو میں ہے کیونکہ ہندوستانی فرنچائز مالکان کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کو خریدنے کے معاملات بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔
پاکستانی اسپنر پر لگائی کروڑوں کی بولی
لندن میں ہونے والی دی ہنڈرڈ (The Hundred )کی نیلامی کے دوران کاویہ مارن( Kavya Maran ) کے زیرِ ملکیت ٹیم نادرن سپر چارجرز(جسے سن رائزرز گروپ کی حمایت حاصل ہے)نے پاکستان کے پراسرار اسپنر ابرار احمدکو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔ اس کھلاڑی کے لیے ٹیم نے ایک لاکھ نوے ہزار پاؤنڈ یعنی تقریباً دو کروڑ34 لاکھ روپے کی بولی لگائی۔ نیلامی کے دوران انہیں خریدنے کے لیے ٹرینٹ راکیٹس(Trent Rockets) بھی میدان میں تھیں، لیکن آخرکار جیت کا تاج کاویہ مارن(Kavya Maran ) کی ٹیم کے سر سج گیا۔

کوچ کی پسند پر لگایا بڑا داؤ
بتایا جا رہا ہے کہ ٹیم کے ہیڈ کوچ Daniel Vettori کی خاص دلچسپی اس پراسرار اسپنر میں تھی۔ اسی وجہ سے فرنچائز نے انہیں اپنی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے بڑی بولی لگانے میں ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔ تاہم اس فیصلے پر گفتگو اس لیے بھی ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستانی کھلاڑیوں کو بھارتی فرنچائز مالکان کی جانب سے سائن کرنے کے معاملات کافی حساس سمجھے جاتے ہیں۔
ابرار احمد کا حالیہ مظاہرہ
اگرابرار احمد کے حالیہ مظاہرے پر نظر ڈالیں تو انہوں نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ (ICC Men's T20 World Cup)میں توقع کے مطابق کارکردگی نہیں دکھائی تھی۔ چار میچوں میں انہوں نے چھ وکٹیں ضرور حاصل کیں، لیکن ان کا اکنامی ریٹ کافی زیادہ رہا۔ ہندوستان کے خلاف میچ میں بھی انہوں نے 28 رن دے کر کوئی وکٹ حاصل نہیں کی۔ اس کے باوجود انہیں ایک پراسرار اسپنر سمجھا جاتا ہے جو اپنی متنوع گیند بازی سے بلے بازوں کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرنچائز نے ان پر اعتماد کیا۔
فیصلے پر اٹھ سکتے ہیں سوال
کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں تنازعہ کی وجہ بن سکتا ہے۔ طویل عرصے بعد کسی بھارتی مالک کی ٹیم کی جانب سے پاکستانی کھلاڑی خریدنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس فیصلے پر شائقین اور کرکٹ کی دنیا کی کیا رائے ہوتی ہے۔