کھمنڈو: پڑوسی ملک نیپال کی سیاست میں ایک نیا اور تاریخی باب جڑ گیا ہے۔ موصولہ معلومات کے مطابق بھومیکا شریشٹھ نیپال کی پہلی خاتون خواجہ سرا رکن پارلیمان بن گئی ہیں۔ 37 سالہ بھومیکا نے نیپال کی پہلی خواجہ سرا خاتون رکن پارلیمان کے طور پر حلف اٹھایا۔ انہیں 275 رکنی ایوان نمائندگان میں جگہ ملی اور وہ ایل جی بی ٹی کیو پلس کے حقوق کے لیے طویل عرصے سے سرگرم ہیں۔
کیلاش سے بھومیکا بننے تک کا سفر۔
بھومیکا شریشٹھ کی پیدائش ایک لڑکے کے طور پر ہوئی تھی اور ان کا نام کیلاش تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے ایک ایسے برادری میں اپنی زندگی گزاری ہے جسے اکثر سماج میں بے عزتی۔ عدم قبولیت اور غربت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اپنی احساسات کے مطابق انہوں نے اپنا روپ اور نام بدل لیا اور بھومیکا بن گئیں۔ 5 اپریل 2021 کو ان کی شہریت میں ترمیم کرکے ان کا نام بھومیکا شریشٹھ اور جنس خاتون کے طور پر درج کی گئی تھی جسے نیپال میں خواجہ سرا شناخت کے لیے ایک بڑا قانونی قدم مانا جاتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ملی پہچان۔
بھومیکا طویل عرصے سے بلو ڈائمنڈ سوسائٹی کے ساتھ جڑ کر اقلیتی برادری کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کی سرگرمی کی وجہ سے انہیں صنفی مساوات کے میدان میں دنیا کے ٹاپ 100 نوجوانوں کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کی جدوجہد پر بھومیکا تیسرے جنس کی خود نوشت کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔
پارلیمان میں بھومیکا کیا کریں گی۔
اب پالیسی سازی کی سطح تک پہنچنے کے بعد بھومیکا کا بنیادی مقصد آئینی حقوق کو زمینی سطح پر نافذ کروانا ہے۔ وہ تعلیم۔ صحت۔ روزگار اور سرکاری اداروں میں اپنی برادری کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں گی۔ اس کے علاوہ وہ مدھیسی۔ مسلمان۔ آدیواسی اور معذوروں جیسے پسماندہ طبقات کے مسائل اٹھانے کے لیے بھی پ±رعزم ہیں۔
نیپالی سیاست کے لیے نیا پیغام۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے 2008 میں سنیل بابو پنت ایشیا کے پہلے ہم جنس پرست رکن پارلیمان کے طور پر منتخب ہوئے تھے لیکن خواجہ سرا خاتون کے طور پر بھومیکا پہلی رکن پارلیمان ہیں۔ ان کا یہ انتخاب نیپال کی سیاست میں شمولیتی نمائندگی کا ایک نیا پیغام دیتا ہے۔