Latest News

گرین لینڈ کے بعد چاگوس بنا ٹرمپ کا نیا ہتھیار، اب ڈیگو گارشیا معاہدے پر امریکہ اور برطانیہ میں تکرار

گرین لینڈ کے بعد چاگوس بنا ٹرمپ کا نیا ہتھیار، اب ڈیگو گارشیا معاہدے پر امریکہ اور برطانیہ میں تکرار

لندن: چاگوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کو سونپنے کے برطانیہ کے فیصلے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے تنقید کے بعد حیرت میں پڑی برطانوی حکومت نے منگل کو اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے برطانیہ کے اس فیصلے کی حمایت کی تھی۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ ہمارا شاندار نیٹو اتحادی برطانیہ اس وقت ڈیگو گارشیا جزیرہ(جہاں امریکہ کا ایک نہایت اہم فوجی اڈہ قائم ہے) ، ماریشس کو سونپنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور وہ بھی بغیر کسی وجہ کے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین اور روس نے اس کمزوری سے بھرپور قدم کو ضرور نوٹ کیا ہوگا۔ امریکہ کے مطابق ڈیگو گارشیا کے فوجی اڈے میں تقریباً 2500  اہلکار تعینات ہیں جن میں زیادہ تر امریکی فوجی شامل ہیں اور یہ مشرق وسطی، جنوبی ایشیا اور مشرقی افریقہ میں سلامتی کے آپریشنز کے لیے ایک اہم مقام ہے۔ چاگوس جزائر 1814  سے برطانوی کنٹرول میں ہیں، جب فرانس نے انہیں برطانیہ کے حوالے کیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے نہایت اہم زمین کو سونپنا انتہائی حماقت ہے اور یہ قومی سلامتی کے ان کئی اسباب میں سے ایک ہے جن کی بنیاد پر گرین لینڈ پر امریکی قبضہ ضروری ہے۔ امریکی صدر کا یہ سخت ردعمل گرین لینڈ کے معاملے پر بڑھتے تنا ؤکو کم کرنے اور کمزور پڑ چکے بحر اوقیانوس کے آر پار تعلقات کو بہتر بنانے کی برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔ اسٹارمر نے پیر کو گرین لینڈ پر قبضے سے متعلق ٹرمپ کے بیانات کو مکمل طور پر غلط قرار دیا، لیکن ساتھ ہی کہا کہ اس اختلاف کو پرامن بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
 برطانیہ اور ماریشس نے مئی میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت دو صدیوں تک برطانوی کنٹرول میں رہنے کے بعد چاگوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کو دی جائے گی۔ تاہم اس جزائر کے اس ڈیگو گارشیا جزیرے کو، جہاں امریکی فوجی اڈہ قائم ہے، برطانیہ کم از کم 99 برس کے لیے لیز پر واپس لے گا۔
امریکی حکومت نے اس سے پہلے اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ڈیگو گارشیا میں واقع مشترکہ امریکی برطانوی فوجی اڈے کے طویل مدتی، مستحکم اور مؤثر آپریشن کو یقینی بنایا جائے گا۔ برطانیہ کے کابینہ وزیر ڈیرن جونس نے منگل کو کہا کہ یہ معاہدہ اگلے سو برس کے لیے اس فوجی اڈے کو محفوظ کرے گا۔ حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ اور اس کی اعلی ترین عدالت نے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ یہ جزائر ماریشس کو واپس کرے۔ حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ برطانیہ کبھی بھی اپنی قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور یہ معاہدہ ڈیگو گارشیا میں واقع مشترکہ امریکی برطانوی فوجی اڈے کے آپریشن کو نسلوں تک محفوظ بناتا ہے، جس میں اس کی منفرد صلاحیتوں کو برقرار رکھنے اور ہمارے دشمنوں کو باہر رکھنے کے لیے مضبوط دفعات شامل ہیں۔ تاہم اس معاہدے کی برطانیہ کی اپوزیشن جماعتوں نے سخت مخالفت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جزائر چھوڑنے سے وہاں چین اور روس کی مداخلت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس معاہدے کی منظوری دینے والا بل ہاؤس آف کامنز میں منظور ہو چکا ہے، لیکن ایوان بالا میں اس کی سخت مخالفت ہوئی۔ ایوان نے بل منظور کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک قرارداد بھی منظور کی۔ منگل کو اس پر مزید بحث کے لیے اسے دوبارہ ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈینوک نے اس معاہدے پر اسٹارمر کی لیبر پارٹی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بیڈینوک نے ایک پوسٹ میں کہا کہ ٹرمپ درست ہیں اور اسٹارمر کی چاگوس جزائر سونپنے کی منصوبہ بندی ایک خوفناک پالیسی ہے جو برطانیہ کی سلامتی کو کمزور کرتی ہے اور ہماری خودمختاری چھین لیتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ ہمیں اور ہمارے نیٹو اتحادیوں کو ہمارے دشمنوں کے سامنے کمزور بنا دیتی ہے۔



Comments


Scroll to Top