National News

بھارت اور چین کو امریکہ کا سخت پیغام، ٹرمپ کے پاس500 فیصد ٹیرف لگانے کا اختیار

بھارت اور چین کو امریکہ کا سخت پیغام، ٹرمپ کے پاس500 فیصد ٹیرف لگانے کا اختیار

واشنگٹن: روس سے تیل خریدنے کو لے کر امریکہ نے ایک بار پھر سخت موقف اپنایا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے کہا ہے کہ جو ممالک اب بھی روسی خام تیل خرید رہے ہیں، ان پر امریکہ پانچ سو فیصد تک ٹیرف لگانے پر غور کر رہا ہے۔ ان کے اس بیان کو بھارت اور چین کے لیے ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بیسینٹ کا اشارہ امریکی سینیٹ میں پیش کیے گئے روس پابندی بل کی طرف تھا، جس میں روسی تیل خریدنے والے ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر پانچ سو فیصد ٹیرف لگانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پاس پہلے ہی یہ اختیار موجود ہے اور اس کے لیے کسی الگ قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ بھارت کا ذکر کرتے ہوئے بیسینٹ نے دعویٰ کیا کہ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت نے روسی تیل کی خرید میں اضافہ کیا تھا لیکن ٹرمپ کی جانب سے پچیس فیصد ٹیرف لگائے جانے کے بعد بھارت نے خرید کم کر دی اور اب روسی تیل لینا بند کر دیا ہے۔ تاہم بھارت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات سے متعلق فیصلے قومی مفاد کی بنیاد پر لیتا ہے۔
روس پابندی بل ٹرمپ کے قریبی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے تیار کیا ہے۔ اس بل میں روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر شدید معاشی دباو ڈالنے کا منصوبہ ہے۔ بیسینٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت براہ راست ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں، اگرچہ سینیٹ انہیں اضافی اختیارات دینا چاہتی ہے۔ اس دوران بیسینٹ نے یورپ پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ چار سال بعد بھی یورپی ممالک روسی تیل خرید رہے ہیں اور بالواسطہ طور پر یوکرین کے خلاف جاری جنگ کو مالی مدد فراہم کر رہے ہیں۔



Comments


Scroll to Top