National News

یوکرین کا روسی بندرگاہ پر ڈرون حملہ: تیل کے ٹینکوں میں لگی آگ، 3 افراد ہلاک

یوکرین کا روسی بندرگاہ پر ڈرون حملہ: تیل کے ٹینکوں میں لگی آگ، 3 افراد ہلاک

انٹرنیشنل ڈیسک: یوکرین کی جانب سے کیے گئے ایک ڈرون حملے میں روس کے کراسنودار علاقے کی ایک اہم بندرگاہ پر تین افراد ہلاک ہو گئے جبکہ آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی حکام نے یہ اطلاع دی۔ کراسنودار کے گورنر وینیامین کوندراتییف نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ یہ حملہ تیمریوک ضلع کے وولنا گاوں میں واقع بندرگاہ کے ٹرمینلز پر ہوا۔ حملے کے بعد وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی جس نے تیل کی مصنوعات سے بھرے چار ذخیرہ ٹینکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گورنر کے مطابق آگ بجھانے اور راحت و بچاو¿ کا کام جاری ہے۔ زخمیوں کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
تمان بندرگاہ روس کا ایک اہم برآمدی مرکز ہے جہاں سے تیل، پیٹرولیم مصنوعات، کوئلہ، سلفر، امونیا، یوریا اور غذائی اشیائبرآمد کی جاتی ہیں۔ اس سے پہلے بیس جنوری کی رات روس کے آدیگیا جمہوریہ کے تاکتاموکایسکی ضلع میں ہونے والے ایک اور ڈرون حملے میں کم از کم گیارہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ علاقے کے سربراہ موراد کومپیلوف نے بتایا کہ ان میں سے نو کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حملے کے بعد نووایا آدیگیا گاو¿ں میں ایک بڑی آگ لگ گئی جس سے ایک اپارٹمنٹ عمارت اور قریب واقع پارکنگ علاقہ متاثر ہو گیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق پندرہ گاڑیاں مکمل طور پر جل گئیں جبکہ پچیس دیگر کو نقصان پہنچا۔ ادھر یوکرین کے دارالحکومت کییف میں روسی فضائی حملوں کے باعث بجلی، پانی اور ہیٹنگ کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ کییف کے میئر ویتالی کلچکو نے بتایا کہ شہر کی پانچ ہزار چھ سو پینتیس عمارتوں میں ہیٹنگ بند ہو گئی ہے۔ کییف میں ایک خاتون زخمی ہوئی ہے جبکہ کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ قریبی علاقے میں پچاس سالہ ایک شخص کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب کییف میں رات کا درجہ حرارت منفی چودہ ڈگری سیلسیس تک گر گیا ہے۔ یوکرین کی ہنگامی خدمات نے شہر میں اکیانوے ہیٹنگ ٹینٹ قائم کیے ہیں جہاں لوگ خود کو گرم کر سکتے ہیں اور اپنے الیکٹرانک آلات چارج کر سکتے ہیں۔



Comments


Scroll to Top