National News

عدالت میں شاہی پروٹوکول ٹوٹا: گواہی دیتے ہوئے رو پڑے برطانوی پرنس ہیری ، بولے،انہوں نے میری بیوی میگن کا جینا حرام کر دیا

عدالت میں شاہی پروٹوکول ٹوٹا: گواہی دیتے ہوئے رو پڑے برطانوی پرنس ہیری ، بولے،انہوں نے میری بیوی میگن کا جینا حرام کر دیا

لندن: برطانیہ کے پرنس ہیری نے ڈیلی میل اخبار کے پبلشر کے خلاف جاری مقدمے میں لندن کی ہائی کورٹ میں گواہی دیتے ہوئے جذباتی لمحات کا سامنا کیا۔ گواہی کے دوران ان کی آنکھیں بھر آئیں اور انہوں نے الزام لگایا کہ برطانوی میڈیا نے ان کی اہلیہ میگن مارکل کی زندگی کو پوری طرح مشکل بنا دیا۔
پرنس ہیری نے عدالت میں کہا کہ صحافیوں کی جانب سے ان کی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات کسی جائز ذریعے سے نہیں بلکہ غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئیں۔ انہوں نے میڈیا کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ خبریں ان کے قریبی دوستوں یا جاننے والوں سے ملی تھیں۔
ہیری نے کہا، وہ مسلسل میرے پیچھے پڑے رہے۔ انہوں نے میری بیوی کو سکون سے جینے نہیں دیا۔ اس معاملے میں پرنس ہیری کے ساتھ مشہور گلوکار سر ایلٹن جان، اداکارہ الزبتھ ہرلی سمیت چھ دیگر معروف شخصیات نے بھی ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز لمیٹڈ پر الزامات عائد کیے ہیں۔ وکیل ڈیوڈ شیربورن کے مطابق پبلشر نے تقریباً دو دہائیوں تک غیر قانونی، منصوبہ بند اور مسلسل طریقوں سے ذاتی معلومات حاصل کیں۔ تاہم پبلشر نے تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جن تقریباً پچاس خبروں پر اعتراض کیا گیا ہے وہ جائز اور عوامی ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات پر مبنی تھیں۔ پبلشر کا دعویٰ ہے کہ ان میں مشہور شخصیات کے قریبی افراد بھی شامل تھے۔
گواہی کے دوران پرنس ہیری نے اپنے دائیں ہاتھ میں ایک چھوٹی بائبل تھام رکھی تھی اور سچ بولنے کی قسم لی۔ صفائی کے وکیل انتھونی وائٹ کے سوالات پر ہیری نہایت دفاعی نظر آئے۔ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ ان کے صحافیوں کے ساتھ کبھی دوستانہ تعلقات رہے ہوں۔ پرنس ہیری نے کہا کہ شاہی خاندان کی روایت کے مطابق وہ برسوں تک کبھی شکایت نہیں کبھی وضاحت نہیں کے اصول پر چلتے رہے لیکن حالات ناقابل برداشت ہو گئے۔
انہوں نے میڈیا کو اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کی موت کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔ قابل ذکر ہے کہ انیس سو ستانوے میں پیرس میں ایک کار حادثے میں ڈیانا کی موت ہو گئی تھی جب پاپارازی ان کا پیچھا کر رہے تھے۔ ہیری نے بتایا کہ میگن کے خلاف مسلسل حملوں، ہراسانی اور نسل پرستانہ تبصروں کے باعث ہی انہوں نے دو ہزار بیس میں شاہی زندگی چھوڑ کر امریکہ جانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی بیوی اور خاندان کی حفاظت کے لیے انہیں شاہی روایت سے ہٹ کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔



Comments


Scroll to Top