انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ میں نئے سال کی تقریبات سے عین قبل ایک بڑے دہشت گردانہ حملے کی سازش کو سکیورٹی ایجنسیوں نے بروقت ناکام بنا دیا۔ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے نارتھ کیرولینا میں داعش ( آئی ایس آئی ایس )سے متاثر ایک خطرناک حملے کا انکشاف کیا ہے، جس کی منصوبہ بندی نیو ایئر ایو( نئے سال کی پہلی رات ) کے دن کی گئی تھی۔ اس معاملے میں ایف بی آئی نے ایک 18 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا ہے، جو گزشتہ تقریباً ایک سال سے اس حملے کی تیاری کر رہا تھا۔
ایف بی آئی شارلٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فراہم کی گئی جانکاری کے مطابق ملزم بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنانے کے ارادے میں تھا۔ حملے میں آتشیں اسلحہ کے بجائے چاقو اور ہتھوڑے جیسے تیز دھار اور بھاری ہتھیار استعمال کرنے کا منصوبہ تھا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ ایف بی آئی نے بتایا کہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اور بروقت خفیہ معلومات کی بدولت اس سازش کو آخری لمحے میں ناکام بنا دیا گیا اور کئی معصوم جانیں بچا لی گئیں۔
ایف بی آئی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ ایف بی آئی اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں نے نارتھ کیرولینا میں نیو ایئر ایو کے موقع پر ہونے والے ایک ممکنہ دہشت گردانہ حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ ملزم براہ راست داعش کے نظریے سے متاثر تھا اور اسی کے نام پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا خیال نہیں تھا، بلکہ دہشت گرد سوچ سے متاثر ہو کر کی گئی منظم سازش تھی۔
اس معاملے پر ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں نے مل کر شاندار کام کیا اور بلاشبہ کئی لوگوں کی جانیں بچائیں۔ انہوں نے اس کارروائی کو سکیورٹی ایجنسیوں کی چوکسی اور ہم آہنگی کی مثال قرار دیا۔
امریکی اٹارنی رس فرگوسن نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار ملزم کی شناخت کرسچن اسٹروڈیونٹ کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ملزم گزشتہ تقریبا ایک سال سے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ یہ معاملہ صرف خیالات تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس نے مکمل تیاری کر رکھی تھی۔ فرگوسن نے کہا کہ ملزم جہاد کی ذہنیت سے متاثر تھا اور اگر اسے بروقت نہ روکا جاتا تو کئی بے گناہ لوگوں کی جانیں جا سکتی تھیں۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ تفتیش ابھی جاری ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ملزم کا کسی بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورک سے براہ راست رابطہ تھا یا وہ آن لائن پروپیگنڈا اور انتہا پسند مواد سے متاثر ہو کر اکیلے ہی اس سازش کو انجام دینے والا تھا۔ ایف بی آئی نے واضح کیا ہے کہ امریکہ میں اس نوعیت کے کسی بھی خطرے کے حوالے سے ادارے مکمل طور پر چوکس ہیں اور عوام کی سلامتی سب سے بڑی ترجیح ہے۔