انٹرنیشنل ڈیسک: تائیوان میں ایک صحافی کو ہفتے کے روز اس الزام میں حراست میں لیا گیا کہ اس نے فوجی معلومات چین کی سرزمین کے لوگوں کو فراہم کرنے کے لیے فوجی افسران کو رشوت دی۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب خود مختار جزیرہ تائیوان چین کی ممکنہ دراندازی کے خلاف سخت اقدامات کر رہا ہے۔ تائیوان کے کیاؤتو ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹرز دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ایک ضلعی عدالت نے لن نامی ایک ٹیلی وژن رپورٹر اور فوج کے پانچ موجودہ اور ریٹائرڈ افسران کی حراست کا حکم دیا ہے۔
بیان میں صحافی کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، تاہم سی ٹی آئی ٹی وی نے اپنے رپورٹر لن چین- یو کی حراست کی تصدیق کی ہے۔ چینل نے کہا کہ اسے اس معاملے کی تفصیلات کا علم نہیں ہے، لیکن اس نے منصفانہ عدالتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تائیوان میں حکومت اور فوج کے اندر جاسوسی کے معاملات کی تحقیقات عام ہیں، تاہم صحافیوں پر اس نوعیت کے الزامات کو نایاب سمجھا جاتا ہے۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ لن نے چینی افراد کو معلومات فراہم کرنے کے بدلے موجودہ فوجی افسران کو چند ہزار سے لے کر دس ہزار تائیوانی ڈالر تک کی متعدد ادائیگیاں کیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ چینی افراد کون تھے یا ان کا چینی حکومت سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔