Latest News

بھیک مانگنے والا نکلا کروڑ پتی ! لگژری کار، ڈرائیور، 3 عالیشان مکان اور 3 آٹو کا مالک ، سود پر بھی دیتا تھا پیسے

بھیک مانگنے والا نکلا کروڑ پتی ! لگژری کار، ڈرائیور، 3 عالیشان مکان اور 3 آٹو کا مالک ، سود پر بھی دیتا تھا پیسے

اندور: مدھیہ پردیش کے شہر اندور کی سڑکوں پر بھیک مانگنے کی ایک چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے۔ صرافہ علاقے میں طویل عرصے سے بھیک مانگنے والا بھکاری مانگی لال دراصل کروڑوں کی جائیداد کا مالک نکلا۔ خواتین و اطفال کی ترقی کے محکمے کی جانب سے چلائے جا رہے بھیک مانگنے کے خاتمے کی مہم کے تحت جب مانگی لال کو ریسکیو کیا گیا تو اس کی حقیقت جان کر نہ صرف افسران بلکہ عام لوگ بھی حیران رہ گئے۔
صرافہ کی گلیوں میں لکڑی کی پھسلنے والی گاڑی، پیٹھ پر بیگ اور ہاتھ میں جوتے کے سہارے لوگوں کی ہمدردی سمیٹنے والا مانگی لال روزانہ 500 سے 1000 روپے تک کماتا تھا۔ وہ بغیر کچھ کہے لوگوں کے پاس جا کر کھڑا ہو جاتا تھا اور لوگ خود ہی اسے پیسے دے دیتے تھے۔
پوچھ گچھ کے دوران مانگی لال نے اعتراف کیا کہ بھیک سے حاصل ہونے والی رقم وہ صرافہ علاقے کے کچھ تاجروں کو سود پر قرض دینے میں استعمال کرتا تھا۔ وہ ایک دن اور ایک ہفتے کے حساب سے سود پر رقم دیتا تھا اور روزانہ سود وصول کرنے کے لیے صرافہ آتا تھا۔
ریسکیو ٹیم کے نوڈل افسر دنیش مشرا نے بتایا کہ مانگی لال کے پاس شہر کے مختلف علاقوں میں تین پختہ مکانات ہیں۔ بھگت سنگھ نگر میں اس کا 16 *45 فٹ کا تین منزلہ مکان ہے۔ اس کے علاوہ شیو نگر میں 600 اسکوائر فٹ کا دوسرا پختہ مکان اور الواس میں 10 *20 فٹ کا ایک بی ایچ کے مکان بھی اس کے نام پر ہے۔ ان میں سے ایک مکان اسے حکومت کی جانب سے ریڈ کراس کی مدد سے معذوری کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔
اتنا ہی نہیں مانگی لال کے پاس تین آٹو بھی ہیں جنہیں وہ کرائے پر چلواتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کے پاس ایک ڈیزائر کار بھی ہے جسے چلانے کے لیے اس نے ڈرائیور بھی رکھا ہوا ہے۔ وہ الواس میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہے جبکہ اس کے دو بھائی الگ رہتے ہیں۔
ضلع پروگرام افسر رجنیش سنہا نے بتایا کہ اندور میں فروری 2024 سے بھیک مانگنے سے پاک مہم چلائی جا رہی ہے۔ ابتدائی سروے میں 6500 بھکاری سامنے آئے تھے جن میں سے 4500 کی کونسلنگ کر کے انہیں بھیک مانگنے سے آزاد کرایا گیا۔ 1600 بھکاریوں کو ریسکیو کر کے اجین کے سیوادھام آشرم بھیجا گیا جبکہ 172 بچوں کا اسکولوں میں داخلہ کرایا گیا۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ بھیک مانگنے والوں اور اس کو فروغ دینے والوں کے خلاف آئندہ بھی سخت کارروائی جاری رہے گی۔
 



Comments


Scroll to Top