انٹرنیشنل ڈیسک: گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ٹیرف دھمکیوں پر یورپی یونین نے کھل کر مخالفت درج کرائی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے اور اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ میٹسولا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یورپی یونین ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ نیٹو اتحادیوں کے خلاف اٹھائے گئے یہ اقدامات آرکٹک سلامتی کو مضبوط نہیں کریں گے بلکہ ہمارے مشترکہ دشمنوں کو حوصلہ دے سکتے ہیں۔ گرین لینڈ اور ڈنمارک دونوں نے واضح کر دیا ہے کہ گرین لینڈ نہ فروخت ہوگا اور نہ ہی کسی دباؤ میں آئے گا۔
در اصل ، ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر یورپی ممالک گرین لینڈ کو امریکہ کو فروخت کرنے پر رضامند نہیں ہوتے تو یکم فروری 2026 سے 10 فیصد اور یکم جون 2026 سے 25 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ یہ ٹیرف ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ پر لاگو کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کے درمیان یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان جولائی 2025 میں اعلان کردہ تجارتی معاہدے کی توثیق کا عمل بھی فی الحال روک دیا گیا ہے۔
یورپی پیپلز پارٹی کے نائب صدر سگفرائڈ موریسان نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس معاہدے پر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی ٹرمپ کی دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ فرانس گرین لینڈ اور یوکرین کی خودمختاری کے دفاع کے لیے کسی بھی دبا ؤسے نہیں ڈرے گا۔ یورپی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ کا یہ رویہ نہ صرف یورپی یونین اور امریکہ کے تعلقات بلکہ نیٹو کی یکجہتی کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔