Latest News

لِو اِن ریلیشن پر سختی ؟ پنجاب میں لایا جاسکتا ہے نیا قانون

لِو اِن ریلیشن پر سختی ؟ پنجاب میں لایا جاسکتا ہے نیا قانون

چنڈی گڑھ : پنجاب میں گھروں کی چار دیواری خواتین کے لیے محفوظ نہیں رہی ہے۔ گھروں کے اندر خواتین کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کبھی ازدواجی تعلقات سے ہٹ کر رشتوں کی وجہ سے شوہر اپنی بیویوں کے ساتھ مارپیٹ کر رہے ہیں تو کبھی منشیات کی لت انہیں پرتشدد بنا رہی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بعض مقامات پر سسر اپنی بہو پر جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ پڑھے لکھے شوہر اور بیوی کے درمیان بھی مارپیٹ کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
 پنجاب اسٹیٹ ویمن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال میں پنجاب سے گھریلو تشدد سے متعلق تقریبا 800 شکایات موصول ہوئیں۔ سال 2024-25 کے دوران ویمن کمیشن کو مجموعی طور پر 1200 شکایات موصول ہوئیں، جن میں گھریلو تشدد کی تقریبا 800 شکایات، عصمت دری اور جنسی ہراسانی کی 817 شکایات، جہیز کے ظلم سے متعلق قریب 200 شکایات اور لِواِن رشتہ سے جڑی 159 شکایات شامل ہیں۔ تاہم سال 2021 سے 2025 کے درمیان ریاستی ویمن کمیشن کو کل 27064 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 21303 شکایات کا ازالہ کیا جا چکا ہے۔
رشتوں کو تار تار کرنے والی شکایات موصول ہو رہی ہیں
پنجاب اسٹیٹ ویمن کمیشن کی چیئرپرسن راج لالی گل نے بتایا کہ ان دنوں ریاست کے مختلف اضلاع سے ایسی شکایات آ رہی ہیں جو رشتوں کو تار تار کر دینے والی ہیں، جن میں باپ کے درجے کے سسر اپنی بیٹی جیسی بہو کو جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ کمیشن کے پاس ایک مہینے میں اس نوعیت کی تقریبا چار شکایات آ رہی ہیں۔ حال ہی میں ایک خاندان کا ایسا ہی معاملہ سامنے آیا ہے، جس میں سسر بہو پر جنسی تعلق قائم کرنے اور بچہ پیدا کرنے کے لیے دبا ؤ ڈال رہا ہے۔
بیٹے کی موت کے بعد سسر، بہو کی پہلی شادی سے پیدا ہونے والے بچے کے نام اپنے مرحوم بیٹے کی جائیداد منتقل نہیں کرنا چاہتا اور اسی وجہ سے بہو کو اپنا بچہ پیدا کرنے کے لیے کہہ رہا ہے۔ ساس بھی اپنے شوہر کا ساتھ دے رہی ہے۔ راج لالی گل نے کہا کہ کچھ شکایات ایسی بھی آ رہی ہیں جن میں شوہر بھی باپ کے اس مطالبے کی حمایت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات سماج کے تانے بانے کو بکھیر رہے ہیں۔ ایسے کیسز میں گھریلو تشدد کے تحت ہی کارروائی کی جاتی ہے۔
پنجاب میں لیو اِن رشتوں میں تیزی سے اضافہ
راج لالی گل نے بتایا کہ گھریلو تشدد کے بعد عصمت دری، جنسی استحصال اور کام کی جگہ پر ہراسانی سے متعلق شکایات بھی کمیشن کے پاس آ رہی ہیں۔ لڑکیاں کبھی کالج میں ساتھ پڑھنے والے ساتھیوں کی چالاکی کا شکار ہو جاتی ہیں تو کبھی لِو اِن میں رہتے ہوئے لڑکے کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کے خوف سے اس کے دوستوں کے ذریعے کیے گئے جنسی جرم کے بعد کمیشن سے مدد مانگنے پہنچتی ہیں۔ لِو اِن رشتوں کے معاملات پنجاب میں تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ لڑکیاں لڑکوں کے جال میں پھنس کر تباہ ہو رہی ہیں اور لڑکے لڑکیوں کی سادگی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ایسے معاملات کو قانون کے دائرے میں لانے کی ضرورت ہو گئی ہے کیونکہ لِو اِن رشتہ جیسے تعلقات سماج کے لیے ایک عذاب کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے اگرچہ لیو اِن رشتے کو منظوری دے رکھی ہے، لیکن اگر ان تعلقات کے بارے میں قانون نہیں بنایا گیا تو لڑکیاں استحصال کا شکار بنتی رہیں گی۔ لِو اِن میں رہنے کے بعد جب لڑکی لڑکے سے شادی کے لیے کہتی ہے اور وہ انکار کر دیتا ہے تو لڑکی مجبوری میں عصمت دری کا مقدمہ درج کرانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن یہ مقدمہ درج نہیں ہو پاتا کیونکہ لڑکی اپنی مرضی سے لڑکے کے ساتھ رہنے پر راضی ہوئی تھی۔ ایسے میں لڑکی کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔
لڑکی کو ملے گا نان نفقہ
راج لالی گل نے بتایا کہ لیو اِن رشتوں میں اضافہ دیکھتے ہوئے انہوں نے پنجاب حکومت سے لِو اِن رشتوں سے متعلق قانون بنانے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے حکومت کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اگر کوئی لڑکا اور لڑکی بغیر شادی کے چار سے چھ ماہ تک لیو اِن رشتے میں رہتے ہیں تو ان کے تعلق کو شادی کے مترادف مانا جائے اور اسے معاہداتی شادی کے دائرے میں شمار کیا جائے۔ لڑکے کو لڑکی کو بیوی کے برابر نان نفقہ اور دیگر حقوق دینا ہوں گے۔ کمیشن نے سائبر قانون میں بھی سختی لانے کے لیے لکھا ہے تاکہ اگر لِو اِن رشتے میں رہنے والی لڑکی کی تصاویر یا ویڈیوز لڑکا بلیک میل کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر ڈالے تو اس لڑکے کو بخشا نہ جائے اور تصاویر یا ویڈیوز کو فورا ًمیڈیا سے ہٹا دیا جائے۔
 



Comments


Scroll to Top