Latest News

جنوبی کوریا میں مارشل لا سازش کا انکشاف، 10 فوجی افسران پر لٹکی جانچ کی تلوار

جنوبی کوریا میں مارشل لا سازش کا انکشاف، 10 فوجی افسران پر لٹکی جانچ کی تلوار

انٹرنیشنل ڈیسک: جنوبی کوریا میں دسمبر 2024 میں نافذ کیے گئے متنازع مارشل لا سے متعلق معاملے میں تفتیش تیز ہو گئی ہے۔ اسی سلسلے میں منگل کے روز پولیس نے دارالحکومت سیئول میں اسپیشل کونسل کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ یہ کارروائی وزارتِ انصاف پر لگے ان الزامات کی جانچ کا حصہ ہے، جن میں کہا گیا ہے کہ مارشل لا کے دوران جیلوں میں حراست کے لیے اضافی جگہ یقینی بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ کورین نیشنل پولیس ایجنسی کی خصوصی تفتیشی ٹیم نے جنوبی سیئول میں واقع اسپیشل کونسل چو یون- سوک کے دفتر سے دستاویزات اور ڈیجیٹل ڈیٹا ضبط کیا۔ یہ وہی دستاویزات ہیں جنہیں اس سے قبل اسپیشل کونسل کی ٹیم نے سابق وزیرِ انصاف پارک سنگ- جے کے خلاف چھاپے کے دوران تحویل میں لیا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ چھاپہ کوریا کریکشنل سروس کے سابق سربراہ شِن یونگ ہے سے متعلق معاملے میں مارا گیا۔ شِن پر الزام ہے کہ انہوں نے مارشل لا نافذ کرنے کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ شِن نے وزیرِ انصاف پارک کی ہدایت پر دارالحکومت کے علاقے کی جیلوں میں حراستی صلاحیت کا جائزہ لیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ شِن نے رپورٹ دی تھی کہ موجودہ جیلوں میں تقریبا 3600  اضافی قیدیوں کو رکھا جا سکتا ہے۔ اسپیشل کونسل کی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ شِن نے اپنے ماتحت افسران کو قیدیوں کی تعداد میں رد و بدل اور پیرول کے متبادل راستوں پر دستاویزات تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔
گزشتہ ماہ اسپیشل کونسل کی ٹیم نے پارک -سُنگ جے کو مارشل لا سے متعلق الزامات میں ملزم بنایا تھا، جبکہ شِن کا معاملہ مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اس دوران وزارتِ دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدر یون- سک یول کی ناکام مارشل لا کوشش میں مبینہ طور پر شامل تقریباً دس فوجی افسران کو خصوصی دفاعی تفتیشی یونٹ کے سپرد کیا جائے گا۔ ان افسران پر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف میں مارشل لا سیچوایشن روم قائم کرنے اور نیشنل الیکشن کمیشن میں دفاعی خفیہ اہلکار تعینات کرنے سے متعلق الزامات ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ تفتیش کے نتائج کی بنیاد پر ان افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ یہ قدم فوج کی ساکھ بحال کرنے اور مارشل لا معاملے کے بعد فوجی ڈھانچے میں اصلاحات کی وسیع کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top