Latest News

سنجے راوت کے بیان سے  شیو سینا نے کیا کنارہ، آدتیہ ٹھاکرے بولے- ماضی میں ڈبکی لگانے کی ضرورت نہیں

سنجے راوت کے بیان سے  شیو سینا نے کیا کنارہ، آدتیہ ٹھاکرے بولے- ماضی میں ڈبکی لگانے کی ضرورت نہیں

ممبئی: شیوسینا   نے  لیڈر  سنجے راوت  کی جانب سے ویر ساور کر پر دئیے گئے بیان پر صفائی دی ہے ۔ مہاراشٹر حکومت میں وزیر آدتیہ ٹھاکرے نے صفائی دیتے ہوئے ان کے اس بیان سے پلہ  جھاڑ لیا ۔ آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ ماضی میں ڈبکی لگانے  کی ضرورت نہیں ہے۔
 در اصل شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے کانگرس کا نام لئے بغیر  کہا تھا کہ   ''جو لوگ ہندو مفکر  ویر  ساورکر کو بھارت رتن دئیے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے ہوں  ان کو انڈمان کی سیلیولر جیل میں دو دن گزارنے کے لئے بھیجا جانا چاہئے ،  جہاں  مجاہد آزادی کو قید کے دوران رکھا گیا تھا۔تبھی وہ لوگ ملک کی تعمیر میں ویر ساورکر کی قربانی اور شراکت کو سمجھ پائیں گے  اور انہیں وہاں کی تکلیفوں کا اندازہ ہو جائے گا ''۔ 

https://twitter.com/ANI/status/1218411717685739520?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1218440209966096384&ref_url=https%3A%2F%2Faajtak.intoday.in%2Fstory%2Faaditya-thackeray-sanjay-raut-shiv-sena-congress-alliance-savarkar-1-1155906.html
ان کے اس بیان سے  نظریاتی طور پر الگ کانگرس اور این سی پی کے ساتھ مہاراشٹر  کے اقتدار میں   ان کی حلیف  پارٹی کے لئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔حالانکہ راوت کے اس بیان کے بعد  مہاراشٹر حکومت میں وزیر اور وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ انہیں نہیں پتہ کہ کس تناظر میں راوت نے یہ بیان دیا۔ لیکن میں اتنا کہنا چاہتاہوں کہ  مہاراشٹر ترقی اگھاڑی لوگوں کی خواہشات کی بات کرتی ہے۔بہت سے لوگوں کو اس بات سے برا لگتا ہے کہ کانگرس اور شیو سینا کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ شیوسینا اور کانگرس کا اتحاد مضبوط ہے ، راوت کے بیان سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

https://twitter.com/ANI/status/1218440209966096384?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1218440209966096384&ref_url=https%3A%2F%2Faajtak.intoday.in%2Fstory%2Faaditya-thackeray-sanjay-raut-shiv-sena-congress-alliance-savarkar-1-1155906.html
آدتیہ ٹھاکرے نے کہا  کہ ہم لوگوں کے درمیان کچھ معاملات پر اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن جمہوریت اسی کا نام ہے کہ مختلف نظریات رکھنے کے باوجود دونوں جماعتیں ملک اور ریاست کے مفاد میں ساتھ آئیں۔ انہوں نے کہا   ماضی میں ڈبکی لگانے اور تاریخ میں جانے  کی بجائے  ہم لوگوں کو دور حاضر کے حالات پر بات کرنے کی ضرورت ہے ۔آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ ہم کہ تحریک آزادی کے تمام لیڈران  کا احترام کرتے ہیں۔



Comments


Scroll to Top