نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری شدید جنگ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ اس گفتگو کے دوران وزیر اعظم مودی نے علاقائی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کی اور واضح کیا کہ ایسے حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
سمندری راستوں کی حفاظت پر زور۔
وزیر اعظم مودی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس کے ذریعے بتایا کہ انہوں نے سعودی قیادت کے ساتھ علاقائی صورتحال پر تفصیل سے بات چیت کی ہے۔ دونوں رہنماو¿ں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ کشیدگی کے درمیان سمندری تجارتی راستوں کو کھلا اور محفوظ رکھنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے سمندری راستوں کی حفاظت اور جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

بھارتی برادری کا شکریہ ادا کیا۔
گفتگو کے دوران وزیر اعظم مودی نے سعودی عرب میں رہنے والی بڑی تعداد میں بھارتی برادری کے مفادات اور ان کی فلاح کے لیے سعودی حکومت کی طرف سے دیے جا رہے مسلسل تعاون پر محمد بن سلمان کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔
ڈونالڈ ٹرمپ سے بھی بات چیت ہوئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی شہزادے سے بات چیت کرنے سے پہلے منگل کے روز وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے بھی فون پر گفتگو کی تھی۔ اس گفتگو میں بھی دونوں رہنماو¿ں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد یہ ان رہنماوں کے درمیان پہلی اہم بات چیت تھی۔
مغربی ایشیا کے اس بحران کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے جہازوں کی آمد و رفت کافی متاثر ہوئی ہے تاہم ایران نے اشارہ دیا ہے کہ کچھ شرائط کے تحت غیر دشمن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ایسے میں بھارت کی جانب سے علاقائی امن اور سلامتی کے لیے مسلسل کیے جا رہے یہ اقدامات کافی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔