اوٹاوا: کینیڈا میں پناہ لینے کے خواہش مند افراد کے لیے اب قواعد پہلے جیسے نہیں رہے۔ کینیڈا حکومت نے ملک کے امیگریشن نظام کو مزید سخت بنانے کے لیے نئے قواعد کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اب ایک سال کا اصول نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس نئی تبدیلی کا سب سے بڑا اثر ان لوگوں پر پڑے گا جو کینیڈا پہنچنے کے کافی وقت بعد پناہ کے لیے درخواست دیتے تھے۔
ایک سال کا اصول کیا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق اگر کوئی شخص کینیڈا میں داخل ہونے کے ایک سال یعنی 365 دن کے اندر اپنا دعویٰ پیش نہیں کرتا تو اس کا معاملہ امیگریشن اور پناہ گزین بورڈ کو نہیں بھیجا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص براہ راست پناہ حاصل کرنے کے لیے سماعت کا اہل نہیں رہے گا۔
مدت اور شرائط۔
حکومت نے درخواست دینے والوں کو دو اہم درجوں میں تقسیم کیا ہے۔
عام داخلہ: جو لوگ قانونی طور پر یا دوسرے ذرائع سے کینیڈا آئے ہیں انہیں آمد کی تاریخ سے365 دن کے اندر درخواست دینا لازمی ہے۔
امریکہ کینیڈا سرحد: جو لوگ امریکہ کے ساتھ ملحق زمینی سرحد کے سرکاری راستوں سے داخل ہوتے ہیں ان کے لیے قواعد بہت سخت ہیں۔ انہیں اپنا دعویٰ صرف چودہ دن کے اندر پیش کرنا ہوگا۔ اگر وہ اس مدت سے محروم ہو جاتے ہیں تو انہیں سماعت کے قابل نہیں سمجھا جائے گا۔
24جون2020 کی مقررہ تاریخ: ایک سال کا یہ اصول ان تمام لوگوں پر لاگو ہوتا ہے جو 24 جون2020 کے بعد پہلی بار کینیڈا آئے ہیں۔ اگر کوئی اس تاریخ کے بعد آیا ہے اور درخواست دینے کے لیے ایک سال سے زیادہ انتظار کرتا ہے تو اس کے پاس صرف روانگی سے پہلے خطرے کے جائزے کا اختیار باقی بچے گا جو پناہ حاصل کرنے کے مقابلے میں بہت مشکل عمل ہے۔
کینیڈا اب تک اپنی نرم پالیسیوں کے لیے جانا جاتا تھا لیکن حالیہ عرصے میں بڑھتے ہوئے بوجھ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے یہ سختی اختیار کی ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا نے حال ہی میں انتہا پسند حامیوں اور مظاہرہ کرنے والوں کے احتجاج پر بھی سختی دکھائی ہے جسے ایک سخت سفارتی پیغام سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت کی نئی پالیسی واضح ہے کہ اب صرف انہی لوگوں کو جگہ دی جائے گی جو قواعد کی پابندی کرتے ہیں۔