Latest News

بد عنوانی پر چین کی زیر ٹالرینس: سرکاری افسر کو دی سزائے موت ! اپارٹمنٹس سے نقدی اور سونے کا بڑا ذخیرہ بر آمد( ویڈیو)

بد عنوانی پر چین کی زیر ٹالرینس: سرکاری افسر کو دی سزائے موت ! اپارٹمنٹس سے نقدی اور سونے کا بڑا ذخیرہ بر آمد( ویڈیو)

بیجنگ: چین میں بدعنوانی کے خلاف جاری سخت مہم کے تحت ملک کے سب سے بڑے اور نمایاں مقدمات میں سے ایک میں ایک اعلی سرکاری افسر کو سزائے موت سنائی گئی۔ چینی سرکاری میڈیا اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق، لائی شیاؤمن، جو چین کی بڑی سرکاری مالیاتی کمپنی ہوا رونگ ایسیٹ مینجمنٹ کے سابق چیئرمین اور سینئر افسر تھے، کو بدعنوانی، رشوت خوری اور سرکاری رقوم میں خرد برد کا مجرم قرار دیا گیا۔ تحقیقاتی اداروں نے بیجنگ میں ان کے متعدد اپارٹمنٹس سے تقریبا 13.5 ٹن نقد رقم، کروڑوں ڈالر کی غیر ملکی کرنسی، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں برآمد کیں۔ یہ رقم مختلف فلیٹس میں چھپا کر رکھی گئی تھی، جسے چین کی تاریخ میں نقد رقم کی سب سے بڑی برآمدگی قرار دیا گیا۔

CHINA SHOCKER 🚨 Former Haikou mayor found with :

- 23 tons of cash 🤯
- 13.5 tons of gold
- Luxury real estate in China & abroad
- Collection of high-end cars

Assets worth billions were obtained through bribes linked to government contracts & land deals.

He has been sentenced… pic.twitter.com/rBM5ql4MSs

— News Algebra (@NewsAlgebraIND) January 2, 2026


عدالت کے مطابق، لائی شیاؤمن نے 2009 سے 2018 کے درمیان سرکاری ٹھیکے دلوانے، مالی فیصلوں میں جانبداری اور نجی کمپنیوں کو غیر قانونی فائدہ پہنچانے کے بدلے اربوں یوآن رشوت وصول کی۔ ان کی غیر قانونی آمدنی کو نہایت سنگین مالی جرم کے زمرے میں رکھا گیا۔ چین کی اعلی ترین عدالت نے انہیں سرکاری رقوم میں خرد برد، اختیارات کے غلط استعمال اور بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا مجرم ٹھہراتے ہوئے سزائے موت سنائی، جسے بعد میں نافذ کر دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ جرم کی سنگینی اتنی زیادہ تھی کہ کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں تھی۔
اس مقدمے کو چین کی انسداد بدعنوانی مہم کی علامت سمجھا گیا، جس سے دنیا کو یہ پیغام ملا کہ اقتدار کے اعلی ترین عہدوں پر فائز افراد بھی قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔
 



Comments


Scroll to Top