نئی دہلی: دہلی پولیس کی اقتصادی جرائم کی روک تھام سے متعلق شاخ (ای او ڈبلیو) نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی شکایت کی بنیاد پر کانگریس کے سینئر لیڈرسونیا گاندھی، راہل گاندھی اور دیگر کے خلاف نیشنل ہیرالڈ معاملے میں ایک نیا معاملہ درج کیا ہے یہ ایف آئی آر، جس کا نمبر 0124/2025 بتایا گیا ہے، منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت جاری تحقیقات کے نتیجے میں درج کی گئی ہے۔
ای ڈی کے مطابق ملزمین، خاص طور پر کمپنی ’ینگ انڈین‘پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک مجرمانہ سازش کے تحت ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) کے زائد از دو ہزار کروڑ روپے مالیت کے اثاثوں کو محض پچاس لاکھ روپے میں اپنے قبضے میں لیا۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ینگ انڈین میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی مجموعی حصے داری 76 فیصد ہے، اس لیے اس مبینہ اسکیم کے بنیادی فائدہ اٹھانے والے بھی وہی ہیں۔
ای ڈی کا الزام ہے کہ سال 2010 میں کانگریس پارٹی نےاے جے ایل پر واجب الادا 90 کروڑ روپے سے زائد کے قرض کی وصولی کا حق صرف پچاس لاکھ روپے میں ینگ انڈین کو منتقل کردیا۔ بعد ازاں اے جے ایل نے اسی واجب الادا رقم کو ایکویٹی میں تبدیل کرکے ینگ انڈین کو نو کروڑ سے زیادہ شیئرز جاری کیے، جس سے کمپنی (ینگ انڈین )کو اے جے ایل کے تقریباً تمام اثاثوں کے مالکانہ حقوق مل گئے۔
ای ڈی کے مطابق اس پورے معاملے میں حاصل شدہ مشتبہ رقوم کی مجموعی مالیت میں اے جے ایل کے90.21 کروڑ روپے کے شیئرز، 755.15 روپے مالیت کی جائیدادیں اور 142.67 کروڑ روپے کرایہ شامل ہے، جسے ملا کر یہ رقم تقریباً 988.03 کروڑ روپے بنتی ہے۔ انہی الزامات کی بنیاد پر اے جے ایل کی سات 751.91 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی جائیدادیں پہلے ہی منجمد کی جاچکی ہیں۔
یہ معاملہ ابتدا میں 2013 میں سبرامنیم سوامی کی طرف سے دائر نجی شکایت سے شروع ہوا تھا، جس پر 2014 میں عدالت نے کارروائی آگے بڑھائی۔ بعد ازاں دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی اس قانونی کارروائی کو برقرار رکھا۔ اب ای ڈی کی جانب سے اپنی تفتیشی رپورٹ دہلی پولیس کی ای او ڈبلیو کو دیے جانے اس معاملے میں ایف ا?ر درج کی گئی ہے۔