انٹرنیشنل ڈیسک:نیوزی لینڈ سے ایک سنسنی خیز خبر سامنے آ ئی ہے، جہاں انتظامیہ نے ملک میں جنگلی بلیوں کی بڑھتی ہوئی دہشت کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ان جنگلی بلیوں کو فیرل کیٹس کہا جاتا ہے، جنہیں حکومت نے سب سے بڑا عوامی دشمن قرار دیا ہے۔ حکومت نے "Predator Free 2050" منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت اگلے 25 سالوں میں ان شکاری بلیوں کو ملک سے مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بلیاں گھریلو بلیوں سے مختلف ہوتی ہیں اور انسانوں کے رابطے کو برداشت نہیں کرتیں۔ یہ نیوزی لینڈ کی انوکھی چڑیوں، چھوٹے پرندوں اور نایاب اقسام کو کھا رہی ہیں، جس کی وجہ سے کئی مقامی اقسام تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ اس وقت ملک میں تقریباً 25 لاکھ جنگلی بلیاں موجود ہیں۔ یہ بلیاں گھریلو بلیوں سے کچھ بڑی اور تقریباً 7 کلو وزن کی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے چھوٹے جانوروں کے لیے ان سے بچ کر رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

محفوظات کے وزیر تامہ پوٹاکا نے ان بلیوں کو "اسٹون کولڈ کلر" کہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کا مقصد صرف جنگلی بلیوں کو ختم کرنا ہے اور گھریلو بلیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پوٹاکا نے یہ بھی کہا کہ یہ بلیاں صرف اقسام کو ہی نقصان نہیں پہنچاتیں، بلکہ ٹاکسوپلازموسِس جیسی بیماریاں بھی پھیلاتی ہیں، جو انسانوں اور دودھ دینے والے جانوروں دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ منصوبہ نیوزی لینڈ کی انوکھی آب و ہوا اور حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک ضروری قدم قرار دیا گیا ہے۔