Latest News

ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کا جیونت پرتیک ہے  کاشی -سنگمم

ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کا جیونت پرتیک ہے  کاشی -سنگمم

چند دن پہلے ہی مجھے سومناتھ کی مقدس سرزمین پر سوم ناتھ سو ابھیمان پرو میں شریک ہونے کا سعادت بھرا موقع ملا۔ اس پرو کو ہم 1026 میں سوم ناتھ پر ہونے والے پہلے حملے کے ایک ہزار سال مکمل ہونے پر منا رہے ہیں۔اس لمحے کے گواہ بننے کے لئے ملک کے کونے کونے سے لوگ سوم ناتھ پہنچے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کے لوگ جہاں اپنی تاریخ اور ثقافت سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، وہیں کبھی ہار نہ ماننے والا حوصلہ بھی ان کی زندگی کی ایک بڑی خصوصیت ہے۔
یہی جذبہ انہیں ایک ساتھ جوڑتا بھی ہے۔ اس پروگرام کے دوران میری ملاقات کچھ ایسے لوگوں سے بھی ہوئی جو اس سے پہلے سوراشٹر تمل  سنگمم کے دوران سوم ناتھ آئے تھے اور اس سے پہلے کاشی تمل سنگمم  کے وقت کاشی بھی گئے تھے۔ایسے پلیٹ فارمز کے بارے میں ان کی مثبت سوچ نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس لئے میں نے طے کیا کہ کیوں نہ اس موضوع پر اپنے کچھ خیالات شیئر کروں ۔
 'من کی بات' کے ایک ایپی سوڈ کے دوران میں نے کہا تھا کہ اپنی زندگی میں تمل زبان نہ سیکھ پانے کا مجھے بہت دکھ ہے۔ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے  ہماری حکومت تمل ثقافت کو ملک میں اور زیادہ مقبول بنانے کے لئے مسلسل کام کر رہی ہے۔ یہ ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے جذبے کو مزید مضبوط کرنے والا ہے۔
 ہماری ثقافت میں سنگم کی بہت اہمیت ہے۔ اسی پہلو سے بھی کاشی تمل سنگمم ایک منفرد کوشش ہے۔ اس میں جہاں بھارت کی متنوع روایات کے درمیان حیرت انگیز ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے، وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی روایات کا کس طرح احترام کرتے ہیں۔ کاشی تمل سنگمم کے انعقاد کے لئے کاشی کو سب سے موزوں مقام کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہی کاشی ہے جو ازل سے ہماری تہذیب کا محور رہی ہے۔ 
یہاں ہزاروں برسوں سے لوگ علم ، زندگی کے مفہوم اور موکش کی تلاش میں آتے رہے ہیں۔ کاشی کا تمل سماج اور ثقافت سے نہایت گہراتعلق رہا ہے۔ کاشی با با وشوناتھ کی نگری ہے تو تمل ناڈو میں را میشورم تیرتھ ہے۔ تمل ناڈو کی تینکاسی کو جنوبی کاشی یا دکشن کاشی کہا جاتا ہے۔ پوجیہ کمار گورو پرر سوامی جی نے اپنی علمی اور روحانی روایت کے ذریعے کاشی اور تمل ناڈو کے درمیان ایک مضبوط اور پائیدار رشتہ قائم کیا تھا۔
تمل ناڈو کے عظیم سپوت مہا کوی سبرمنیم بھارتی جی کو بھی کاشی میں فکری نشوونما اور روحانی بیداری کا ایک انوکھا موقع ملا۔ یہیں ان کا قوم پرستی کا جذبہ مزید مضبوط ہوا اور ان کی شاعری کو ایک نئی سمت ملی۔یہیں آزاد اور متحد بھارت کے ان کے تصور کو واضح سمت حاصل ہوئی۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں جو کاشی اور تمل ناڈو کے درمیان گہر ے قلبی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔
 سال 2022 میں وارانسی کی دھرتی پر کاشی  تمل سنگمم کی شروعات ہوئی تھی۔ مجھے اس کے افتتاحی پروگرام میں شریک  ہونے کا موقع ملا تھا۔ اس وقت تمل ناڈو سے آئے ادیبوں، طلبا ، فنکاروں دانشوروں، کسانوں اور مہمانوں نے کاشی کے ساتھ ساتھ پریاگ راج اور ایودھیا کے بھی درشن کئے تھے۔ اس کے بعد کے انعقاد میں اس پہل کو مزید وسعت دی گئی۔ 
اس کا مقصد یہ تھا کہ سنگمم میں وقتاً فوقتا ًنئے موضوعات شامل کئے جائیں، نئے اور تخلیقی طریقے اپنائے جائیں اور اس میں لوگوں کی شمولیت زیادہ سے زیادہ ہو۔ کوشش تھی کہ یہ پروگرام اپنی بنیادی روح سے جڑا رہتے ہوئے مسلسل آگے بڑھتا ر ہے۔سال 2023 کے دوسرے انعقاد میں ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا تا کہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ زبان رکاوٹ نہ بنے۔ اس کے تیسرے ایڈیشن میں انڈین نالج سسٹم پر خصوصی توجہ دی گئی ۔
اس کے ساتھ ہی تعلیمی مکالموں، ثقافتی پیشکشوں، نمائشوں اور گفتگو کے سیشنز میں لوگوں کی بڑی شرکت دیکھنے کو ملی ۔ ہزاروں لوگ ان کا حصہ بنے۔اس پلیٹ فارم نے ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے جذبے کو آگے بڑھایا ہے، اسی لئے آنے والے وقت میں ہم اس پروگرام کو اور بھی زیادہ متحرک بنانے والے ہیں۔ یہ وہ جذبہ ہے جو صدیوں سے ہمارے تہواروں، ادب، موسیقی، فن، کھانوں، تعمیرات اور علمی روایتوں کا اہم حصہ رہا ہے۔ 
سال کا یہ وقت ہر ملک کے شہری کے لئے نہایت مقدس مانا جاتا ہے۔ لوگ بڑے جوش و خروش کے ساتھ سنکرانتی ، اترائن، پونگل ، ماگھ بیہو جیسے کئی تہوار منا رہے ہیں۔ یہ تمام تہوار بنیادی طور پر سورج دیوتا ، فطرت اور زراعت کے نام وقف ہیں ۔ یہ تہوار لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں، جس سے سماج میں ہم آہنگی اور اتحاد کا جذبہ مزید گہرا ہوتا ہے۔
 اس موقع پر میں آپ سب کو اپنی نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں ۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ان تہواروں کے ساتھ ہماری مشترکہ وراثت اور اجتماعی شمولیت کا جذبہ ملک کے لوگوں کی یکجہتی کو اور زیادہ مضبوط کرے گا۔
نریندر مودی ( پردھان منتری بھارت ) 
 



Comments


Scroll to Top