Latest News

نہ زبان کی دیوار ، نہ سرحد کا پہرا: ، فیروز آباد کی گلیوں میں گونجی جرمن شہنائی، غیر ملکی دولہے نے لئے سات پھیرے

نہ زبان کی دیوار ، نہ سرحد کا پہرا: ، فیروز آباد کی گلیوں میں گونجی جرمن شہنائی، غیر ملکی دولہے نے  لئے سات پھیرے

 نیشنل ڈیسک : عشق نہ سرحد دیکھتا ہے اور نہ ہی زبان۔ اتر پردیش کے ضلع فیروز آباد میں ایک ایسی ہی انوکھی محبت کہانی مکمل ہوئی۔ جہاں جرمنی سے آئے دولہے گستاو نے شیکوہ آباد کی بیٹی خوشی کے ساتھ ہندو ریتی رواج سے شادی رچائی۔ غیر ملکی دولہے نے نہ صرف شیروانی اور سافہ پہنا، بلکہ ہاتھوں میں دلہن کے نام کی مہندی لگا کر ہندوستانی روایت کا احترام بھی بڑھایا۔
سوئمنگ پول سے شروع ہوئی محبت کی کہانی
اس بین الاقوامی جوڑے کی ملاقات کسی فلمی کہانی سے کم نہیں ہے۔ سال 2023 میں گستاو ہندوستان گھومنے آئے تھے۔ جے پور کے ایک ہوٹل میں ان کی ملاقات خوشی سے ہوئی، جو اس وقت سوئمنگ پول میں تیراکی سیکھ رہی تھیں۔ خوشی جے پور کی ایک جرمن کمپنی میں کام کرتی ہیں۔ پہلی ملاقات کے بعد دونوں کے درمیان گفتگو بڑھی، دوستی ہوئی اور پھر دونوں نے زندگی بھر ساتھ رہنے کا فیصلہ کر لیا۔
جب مترجم (Translators) نے کرائی شادی
شادی میں زبان کی دیوار نہ آئے، اس کے لیے خاص انتظام کیے گئے تھے۔ چونکہ گستاو اور ان کے خاندان کو ہندی نہیں آتی تھی، اس لیے شادی کی جگہ پر 4 مترجم (انٹرپریٹر)تعینات کیے گئے تھے۔ پنڈت جی کے منتر اور شادی کی رسومات کا مطلب غیر ملکی مہمانوں کو انگریزی اور جرمن میں سمجھایا گیا، تاکہ وہ اس مقدس بندھن کی گہرائی کو سمجھ سکیں۔
غیر ملکی مہمانوں پر چڑھا ہندوستانی رنگ
جرمنی سے آئے باراتی ہندوستانی ثقافت کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ گستاو نے شیکوہ آباد کے لوگوں کی مہمان نوازی کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان تنوع والا ملک ہے اور یہاں کے لوگوں کا پیار انہیں ہمیشہ یاد رہے گا۔ ورمالا سے لے کر وداعی تک ہر رسم میں غیر ملکی مہمان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
 



Comments


Scroll to Top