یو پی ڈیسک: ہریانہ کے گروگرام سے انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا ایک دردناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ تریپورہ سے خواب لے کر پڑھائی کرنے آئی بی ایس سی بایوٹیک دوسرے سال کی طالبہ کو اس کا ہی آن لائن دوست مبینہ طور پر تین دن تک قید میں رکھ کر غیر انسانی اذیتیں دیتا رہا۔ متاثرہ کے مطابق وہ اس کے کردار پر شک کرتا تھا جس کی وجہ سے روزانہ اس سے مارپیٹ کرتا تھا۔
طالبہ نے گروگرام پولیس کو بتایا کہ اس کے پارٹنر نے اس کے نجی حصوں پر سینیٹائزر ڈال کر آگ لگا دی۔ متاثرہ لڑکی نے مزید دعوی کیا کہ اس کے پارٹنر نے اس کے سر پر میٹل کی بوتل ماری اور پھر اسے دروازے اور الماری پر پٹکا۔

ماں مجھے بچا لو
متاثرہ نے کسی طرح اپنی ماں کو فون کرکے اپنی کہانی سنائی۔ روتے ہوئے اس نے کہا 'ماں مجھے بچا لو نہیں تو میں مر جاں گی ' ۔ بیٹی کی حالت بھانپتے ہی ماں نے تریپورہ سے ہریانہ پولیس کو اطلاع دی اور گروگرام میں پی جی کا پتہ فراہم کیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور شدید حالت میں طالبہ کو ہسپتال میں داخل کرایا۔ پہلے اسے گروگرام کے ایک ہسپتال لے جایا گیا، لیکن حالت بگڑنے پر دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال ریفر کیا گیا۔ فی الحال طالبہ آئی سی یو میں زندگی اور موت کے درمیان جدوجہد کر رہی ہے۔
ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج
ہریانہ پولیس نے متاثرہ کے بیان کی بنیاد پر ملزم نوجوان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے اور معاملے کی جانچ جاری ہے۔ متاثرہ کی ماں نے ملک کے وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے انصاف کی درخواست کی۔
انہوں نے کہا کہ میری بیٹی تریپورہ سے گروگرام پڑھنے آئی تھی، اس نے اپنے مستقبل کے خواب دیکھے تھے۔ لیکن ا سکے ساتھ جو ہوا، اس نے ہماری زندگی تباہ کر دی۔ میں حکومت سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتی ہوں کہ میری بیٹی کو انصاف ملے اور ملزم کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر آن لائن دوستی اور تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔