Latest News

پر تشدد مظاہروں کے درمیان ایرانی وزیر خارجہ کا دعویٰ - حالات پوری طرح قابومیں، ٹرمپ کو بہانہ دینے کے لئے بھڑکائے گئے دنگے

پر تشدد مظاہروں کے درمیان ایرانی وزیر خارجہ کا دعویٰ - حالات پوری طرح قابومیں، ٹرمپ کو بہانہ دینے کے لئے بھڑکائے گئے دنگے

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے خلاف کارروائی کے بعد اب حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان مظاہروں کے پیچھے ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا، تاکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا بہانہ مل سکے۔ عراقچی نے یہ بیان تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں سے گفتگو کے دوران دیا۔ ان کے بیان کو قطر کی حمایت یافتہ الجزیرہ سیٹلائٹ نیوز نیٹ ورک نے نشر کیا۔ قابل ذکر ہے کہ ایران میں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، اس کے باوجود الجزیرہ کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ واقعات کے دوران پرتشدد اور خونریز مظاہرے کیے گئے، جن کا مقصد حالات کو بین الاقوامی مداخلت کی طرف دھکیلنا تھا۔ تاہم انہوں نے اپنے ان الزامات کی حمایت میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں نے دعوی کیا ہے کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف کی گئی کارروائی میں اب تک کم از کم 544 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایرانی حکومت نے ان اعداد و شمار کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔
عراقچی نے زور دے کر کہا کہ حکومت نے حالات پر قابو پا لیا ہے اور ملک میں سلامتی اور استحکام بحال ہو چکا ہے۔ دوسری جانب مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے ایران کی کارروائی پر مسلسل سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایران میں جاری بحران اب صرف ایک اندرونی مسئلہ نہیں رہا بلکہ امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ اس کے پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top