Latest News

کبھی ''جگری دوست '' تھے ایران اور اسرائیل، آخر کیسے بن گئے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ؟  جانئے پوری کہانی

کبھی ''جگری دوست '' تھے ایران اور اسرائیل، آخر کیسے بن گئے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ؟  جانئے پوری کہانی

 انٹر نیشنل ڈیسک :  آج مشرق وسطی کا آسمان میزائلوں اور لڑاکا طیاروں کی گرج سے گونج رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل جو کبھی ایک دوسرے کے تزویراتی شراکت دار تھے آج جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ1979  سے پہلے اسرائیل ایران کو ہتھیار فراہم کرتا تھا۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ دوست راتوں رات جانی دشمن بن گئے۔
حالیہ واقعات کی بات کریں تو اسرائیل نے ہفتے  28 فروری کو ایران پر جوابی میزائل حملہ کیا جس سے تہران میں زور دار دھماکے ہوئے۔ یہ حملہ جوہری معاہدے کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور وسیع فوجی تصادم کے خدشات کے درمیان کیا گیا۔ رائٹرز نے مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا کہ کئی میزائل تہران کی یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری علاقے میں گرے جبکہ شہر کے وسطی حصے میں پاشچر اسٹریٹ کے قریب دھوئیں کے گھنے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

PunjabKesari
اس سے پہلے تیرہ جون کو اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری اور فوجی ٹھکانوں پر کیا گیا آپریشن رائزنگ لائن اس دشمنی کا ایک نیا اور مہلک باب ہے۔ اس حملے سے پہلے اسرائیل نے باقاعدہ تہران خالی کرنے کی وارننگ دی تھی جس کے جواب میں ایران نے 'آپریشن ٹرو پرامس ' تین کے تحت اسرائیل پر سو سے زیادہ میزائل داغے۔ اس تصادم میں ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر حسین سلامی اور کئی جوہری سائنس دانوں کی موت نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا ہے۔

PunjabKesari
کبھی جگری دوست رہے یہ دونوں ملک
حیرت کی بات یہ ہے کہ1948  میں جب اسرائیل وجود میں آیا تب ایران ان ابتدائی مسلم اکثریتی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے تھے۔ اس دور میں ایران پر شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت تھی۔ شاہ کے زمانے میں ایران اور اسرائیل کی قربت کی بڑی وجہ مشترکہ دشمن یعنی عرب ممالک تھے۔ اسرائیل کے اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین ' پیریفری ڈاکٹن '  کی پالیسی (پیریفری نظریہ)  اپنائی تھی جس کا مقصد عرب ممالک کے گھیراؤ سے بچنے کے لیے غیر عرب ہمسایہ ممالک جیسے ایران اور ترکی سے دوستی کرنا تھا۔ اس زمانے میں ایران اسرائیل کو تیل فراہم کرتا تھا اور بدلے میں اسرائیل اسے ہتھیار اور ٹیکنالوجی دیتا تھا۔ چونکہ شاہ کے تعلقات امریکہ اور مغربی ممالک سے بہت مضبوط تھے اس لیے ایران اور اسرائیل ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔
دوستی کا دور ختم: 1979  کے اسلامی انقلاب نے دو طرفہ پالیسیوں کو بدل دیا
ان دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا سنہرا دور1979 کے اسلامی انقلاب کے ساتھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ شاہ کے زوال کے بعد جب آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران قائم ہوئی تو خارجہ پالیسی مکمل طور پر بدل گئی۔ نئی حکومت نے اسرائیل کو ایک غیر قانونی ریاست اور فلسطینی سرزمین پر قابض ملک قرار دیا۔ خمینی نے امریکہ کو بڑا شیطان اور اسرائیل کو چھوٹا شیطان کہا۔ ایران کا ماننا تھا کہ یہ دونوں طاقتیں مشرق وسطی کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کر رہی ہیں۔ یہیں سے نظریاتی اور تزویراتی دشمنی کی بنیاد پڑی۔

PunjabKesari
بالواسطہ جنگ اور جوہری تنازع
انقلاب کے بعد کی دہائیوں میں ایران نے مشرق وسطی میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے اسرائیل مخالف گروہوں کی حمایت شروع کی۔ اسرائیل مسلسل یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ ایران غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ جیسے گروہوں کو ہتھیار اور مالی مدد فراہم کرتا ہے تاکہ اسرائیل کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔ دوسری طرف اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ 2010  کے آس پاس سے ہی اسرائیل نے ایران کے اندر کئی خفیہ کارروائیاں کی ہیں جن میں جوہری سائنس دانوں کے قتل اور سائبر حملے شامل رہے ہیں۔ اسرائیل کا واضح مؤقف ہے کہ وہ ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔



Comments


Scroll to Top