Latest News

ایران اور اسرائیل جنگ کا ہندوستان کی بیرونی تجارت پر پڑ سکتا ہے گہرا اثر، بڑھے گی مہنگائی، جانئے ماہرین کی رائے

ایران اور اسرائیل جنگ کا ہندوستان کی بیرونی تجارت پر پڑ سکتا ہے گہرا اثر، بڑھے گی مہنگائی، جانئے ماہرین کی رائے

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں گہرا ہوتا فوجی بحران اب ہندوستان کی معاشی نبض پر حملہ کرنے لگانے لگا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان چھڑی براہ راست لڑائی نے نہ صرف سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ ہندوستانی برآمد کنندگان اور تاجروں کی نیندیں بھی اڑا دی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو عراق، اردن اور شام جیسے ممالک کے ساتھ ہندوستان  کا اربوں ڈالر کا کاروبار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
برآمد کنندگان کی بڑھتی تشویش، مشکل میں پھنسی تجارت
ایک خبر رساں چینل کے حوالے سے ممبئی کے بڑے برآمد کنندہ اور ٹیکنو کرافٹ انڈسٹریز کے چیئرمین شرد کمار سراف کے مطابق ہندوستانی تاجر اس وقت بڑی مشکل میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کئی کمپنیوں نے ایران اور اسرائیل جانے والی اپنی کھیپوں کو فی الحال روک دیا ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ یقینی
سراف نے خبردار کیا ہے کہ اس کشیدگی کا سب سے برا اثر آبنائے ہرمز پر پڑے گا۔ یہ ایک اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی تجارت گزرتی ہے۔ اگر یہاں آمد و رفت متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے جس کا براہ راست اثر ہندوستان میں مہنگائی کی صورت میں نظر آئے گا۔
دوہری مار ، بحیرہ احمر کے بعد نیا بحران
ہندوستانی تاجر پہلے ہی بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کے حملوں سے پریشان تھے جس کے باعث جہازوں کو افریقہ کا طویل چکر لگا کر 'کیپ آف گڈ ہوپ ' کے راستے جانا پڑ رہا تھا۔ اب ایران اسرائیل جنگ نے ایک اور تجارتی راستے کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی اییٹو (عالمی تجارتی تحقیقاتی قدم ) کے بانی کا کہنا ہے کہ اگر اس خطے کی بندرگاہوں یا مالیاتی نظام میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ آئی تو  ہندوستان  کی ترسیلی زنجیر کو بھاری نقصان ہوگا۔ اس سے مال برداری اور بیمہ کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔
اربوں کا کاروبار داو پر
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو مغربی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی رشتہ کافی گہرا ہے۔
ملک / علاقہ                               ہندوستان کی برآمدات  (2024-25 )    ہندوستان کی در آمدات  ( 2024-25 ) 
ایران                                                     1.24 ارب ڈالر                     441.8 کروڑ ڈالر 
اسرائیل                                                    2.1 ارب ڈالر                      1.6 ارب ڈالر 
دیگر مغربی ایشیائی ممالک                             8.6 ارب ڈالر                    33.1 ارب ڈالر

ایران کو ہونے والی اہم برآمدات : 

  •  باسمتی چاول  ( 75.32 کروڑ ) ڈالر۔
  • اس کے علاوہ سویا میل، چائے، کیلا اور چنا

امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد یہ تنازع ایک علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہندوستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی توانائی کی سلامتی یعنی تیل کی درآمد کو کیسے محفوظ رکھے اور اپنے برآمد کنندگان کو اس معاشی غیر یقینی صورتحال سے کیسے نکالے۔
 



Comments


Scroll to Top