انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطی میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد حالات خراب ہونے پر ہندوستان نے اسرائیل میں موجود اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ کئی ممالک نے جنگ کے خطرے کے سبب ایران میں اپنے سفارتخانوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ برطانیہ، چین، آسٹریلیا، پولینڈ، فن لینڈ، سویڈن اور سنگاپور نے بھی شہریوں کو محتاط رہنے یا خطہ چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ برطانیہ نے ایران سے اپنے سفارتی اہلکاروں کو عارضی طور پر واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ تل ابیب میں ہندوستانی سفارتخانے نے شہریوں سے شیلٹر کے قریب رہنے اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کو کہا۔ اسرائیل اور ایران نے احتیاطی طور پر فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
غیر ہنگامی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کی اجازت
کشیدگی کے درمیان امریکہ نے یروشلم میں اپنے غیر ہنگامی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دی ہے۔ اس سے قبل بیروت کے لیے بھی ایسا حکم جاری ہوا تھا۔ ہندوستان ، برطانیہ، چین، آسٹریلیا، پولینڈ، فن لینڈ، سویڈن اور سنگاپور نے بھی شہریوں کو محتاط رہنے یا خطہ چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ برطانیہ نے ایران سے اپنے سفارتی اہلکاروں کو عارضی طور پر واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی فوجی اجتماع اور اسرائیل پر اثر
سفارتی مذاکرات جاری رہنے کے باوجود امریکہ نے مشرق وسطی میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔ امریکی طیارہ بردار جہاز یوایس ا یس جیراڈ آر فورڈ (USS Gerald R. Ford) خطے میں تعینات ہے اور اسرائیلی آبی حدود میں موجود بتایا جا رہا ہے۔ کئی ہوائی کمپنیوں نے تل ابیب کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔ امریکی سفارتخانے نے اپنے اہلکاروں کو اولڈ سٹی اور ویسٹ بینک جیسے علاقوں کے سفر سے اجتناب کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ممکنہ تصادم کے خوف سے اسرائیل کی کرنسی ' شیکل ' میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی معیشت پر اثر
توانائی کے بازاروں میں بھی ہلچل ہے۔ خام تیل کی قیمتیں فیصد بڑھ کر ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ بحیرہ احمر میں سلامتی کے خطرات کے سبب اہم شپنگ کمپنیوں اے پی مولر-میئرزک (A.P. Moller-Maersk) اور ہیپاگ-لائیڈ (Hapag-Lloyd ) نے اپنے جہازوں کے راستے بدل دیے ہیں۔ اب وہ سوئز نہر کے بجائے افریقہ کے جنوبی حصے سے طویل راستہ اختیار کر رہی ہیں۔ صورتحال انتہائی نازک بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف سفارتکاری کے دروازے کھلے ہیں، دوسری طرف فوجی تیاری تیز ہو رہی ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو یہ تصادم صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی اقتصادی اور سلامتی کے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔