نیشنل ڈیسک:ٹرمپ پانچ سو فیصد ٹیرف تنازعہ:ٹرمپ کی جانب سے پانچ سو فیصد ٹیرف لگانے سے متعلق علامتی بیان پر بھارت نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے اس پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی توانائی پالیسی کسی بیرونی دباو یا دھمکی سے نہیں بلکہ اپنے 1.4 ارب شہریوں کی ضروریات سے طے ہوتی ہے۔آئیے جانتے ہیں کہ پورا معاملہ کیا ہے۔

کیا ہےپورا معاملہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دی سینکشننگ آف رشیا ایکٹ 2025 کی حمایت کی ہے، جس کے تحت روس سے تیل یا یورینیم خریدنے والے ممالک، خاص طور پر بھارت، چین اور برازیل پر پانچ سو فیصد تک بھاری درآمدی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے۔اس کا مقصد روس کی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے۔

بھارت کا جواب۔
ایم ای اے کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ بھارت اس بل اور اس سے جڑے واقعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت کا مقصد اپنے شہریوں کو سستی اور محفوظ توانائی فراہم کرنا ہے۔جیسوال نے کہا کہ ہمارا موقف سب کے سامنے ہے۔ہم عالمی منڈی کے بدلتے حالات اور اپنی توانائی سلامتی کی ضروریات کے مطابق ہی فیصلے لیتے ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ بل بھارت جیسے اسٹریٹجک شراکت داروں پر دباو بنانے کی ایک کوشش ہے، لیکن بھارت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور معاشی مفادات کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔