جب میں 2013 میں امریکہ میں اسرائیل کا سفیر بنا تو میری بیوی اور میں اپنے پانچ بچوں کے ساتھ واشنگٹن ڈی سی پہنچے، جن کی عمریں دس سال سے کم تھیں، جن میں ایک دو سالہ لڑکا اور چار ماہ کی ایک بچی بھی شامل تھی۔ ہم ایک او پیئر یعنی دیکھ بھال کرنے والی معاون رکھنے کی امید کر رہے تھے، تاکہ میری بیوی سفیر کی اہلیہ ہونے سے جڑی ذمہ داریاں نبھا سکیں، جن میں ہماری سرکاری رہائش گاہ پر تقاریب کی میزبانی کرنا، واشنگٹن ڈی سی میں مختلف تقریبات میں شرکت کرنا اور دارالحکومت سے باہر کے سفروں میں میرے ساتھ جانا شامل تھا۔
ہمارے سفارت خانے میں میرے ایک ساتھی نے مجھے بتایا کہ اس کی بھارتی او پیئر کی بہن، ہیلن نامی ایک خاتون، بھی امریکہ آ کر کام کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اگرچہ میری بیوی کسی اجنبی شخص کو اپنے گھر میں لانے کے حوالے سے فکرمند تھیں، پھر بھی ہم نے ہیلن پر اعتماد کرنے کا فیصلہ کیا۔
ہیلن ہمارے لیے واقعی کسی نعمت سے کم ثابت نہیں ہوئیں، وہ ایک ذہین، مہربان اور قابل اعتماد خاتون تھیں، جنہوں نے ہمارے بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جیسے وہ ان کے اپنے ہوں۔ ہیلن نے ہمارے خاندان کی سب سے سخت ناقد، میری والدہ کا بھی احترام اور اعتماد حاصل کر لیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہیلن کے لیے اپنے شوہر ونَے اور اپنی بیٹی روشنی سے دور رہنا مزید مشکل ہوتا گیا۔ روشنی صرف بارہ سال کی تھی جب ہیلن اپنی بیٹی کے لیے ایک بہتر مستقبل یقینی بنانے کے لیے ہندوستان چھوڑ کر امریکہ آئی تھیں۔
جب 2021 میں واشنگٹن میں میرا سات سال سے زیادہ کا دورِ سفارت ختم ہوا تو ہم نے ہیلن سے پوچھا کہ کیا وہ اسرائیل واپس جا کر میری والدہ کی دیکھ بھال میں ہماری مدد کرنے کو تیار ہوں گی، جنہیں فالج ہو چکا تھا۔ ہیلن نے ایک بار پھر رضامندی ظاہر کی اور اس طرح دوبارہ اپنے خاندان سے دور ہو گئیں۔
ہمارے بچوں کی سات سال تک دیکھ بھال کرنے کے بعد، ہیلن نے اگلے چار سال تک میری والدہ کی خدمت کی، جن کا گزشتہ سال مئی میں انتقال ہو گیا۔ میں ہمیشہ اس بات کے لیے شکر گزار رہوں گا کہ ہیلن نے میری والدہ کے آخری برسوں میں انہیں کس قدر وقار اور عزت کے ساتھ سنبھالا۔ اسی لیے جب ہیلن نے ہمیں روشنی کی شادی کے لیے ہندوستان آنے کی دعوت دی تو ہمارے دل میں کوئی شک نہیں تھا کہ ہم ضرور وہاں جا کر اس خوشی میں ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔
اسی طرح میں، میری بیوی اور ہمارے تین بچے کرناٹک کے امٹاڈی گاؤں پہنچے، اس شاندار ملک کے اپنے پہلے سفر پر۔ اس دس روزہ سفر میں بے شمار ناقابل فراموش تجربات شامل تھے، تاج محل کی بے مثال عظمت، کورگ کے سرسبز کافی کے باغات، راجستھان میں ٹائیگر سفاری، منگلورو کی مسحور کن جے لکشمی ساڑی کی دکان اور ہر جگہ ملنے والے حیرت انگیز اور دل سے جڑے لوگ۔
مجھے سینئر ہندوستانی حکام سے ملنے کا موقع بھی ملا، جن میں آپ کے تجربہ کار قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور آپ کے وزیر خارجہ ڈاکٹر جے شنکر شامل تھے۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری بے مثال طور پر وسعت اختیار کرے گی۔ لیکن ہندوستان کے میرے پہلے سفر کی سب سے بڑی کشش امٹاڈی میں گزارا گیا وقت تھا، جس کا آغاز جمعرات کی رات تقریب سے ہوا اور اگلے اتوار شادی کی تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
ہم نے اتنی مختلف رسومات دیکھیں کہ سب کا حساب رکھنا مشکل تھا، لیکن ایک بات ہر رسم میں واضح طور پر سامنے آئی، خاندان کا مرکزی کردار۔ جب سینکڑوں لوگ روشنی پر ناریل کا دودھ ڈال کر اپنا آشیرواد دے رہے تھے تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف دو افراد کی شادی نہیں بلکہ دو خاندانوں اور دو برادریوں کا ملاپ تھا۔
مجھے معلوم ہے کہ ہندوستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسے اپنی قومی سلامتی کا تحفظ کرنا ہے۔ اسے ترقی کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینی ہے۔ اسے یہ یقینی بنانا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ، محنتی اور کاروباری افرادی قوت کو ایسے اچھے مواقع ملیں کہ اس کی باصلاحیت انسانی سرمایہ ملک کی سرحدوں کے اندر ہی قائم رہے۔ اسے آلودگی کم کرنی ہے، غربت ختم کرنی ہے اور ان بے شمار مسائل سے نمٹنا ہے جن کا سامنا ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک کرتا ہے۔
اس کے باوجود میں ہندوستان کا مستقبل نہایت روشن دیکھتا ہوں اور اس کی وجہ وہی ہے جو میں نے روشنی کی شادی میں دیکھا۔ خاندان، جو ہر مضبوط معاشرے کی بنیادی اکائی ہے، دنیا کے کئی حصوں میں دباؤ میں ہے۔ لیکن ہندوستان میں خاندان اب بھی مضبوط ہے۔
خاندان ہی وہ وجہ ہے جس نے ہیلن جیسی خاتون کو برسوں تک بیرون ملک کام کرنے پر آمادہ کیا تاکہ وہ اپنی بیٹی کو بہتر مستقبل دے سکے۔ خاندان ہی وہ بنیاد ہے جس نے ہیلن کے بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کو آگے بڑھ کر روشنی کی پرورش میں مدد کرنے پر آمادہ کیا، جب اس کی ماں دور تھی۔ یہی وہ طاقت ہے جو اٹوٹ رشتوں اور لازوال اقدار کو جنم دیتی ہے، جو مضبوط برادریوں اور کامیاب قوموں کی تعمیر کرتی ہے۔
بہت سے لوگ اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ اکیسویں صدی امریکی صدی ہو گی یا چینی صدی۔ آنے والی دہائیو ں میں اگر ہندوستان ان دونوں کے سائے سے نکل کر ابھرے تو اس میں کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ امٹادی جیسے مقامات اور ہیلن جیسے لوگوں کی وجہ سے ہو گا۔ یہ اس لیے ہو گا کہ خاندان میں جڑی ہوئی ایک قدیم تہذیب، جو مستقبل کو اپنانے کے لیے پرعزم ہے، ایسا ملک ہے جس کے لیے امکانات کی کوئی حد نہیں ہے۔
مصنف اسرائیل کے اسٹریٹجک امور کے وزیر( 2022 سے 2025 تک) اور امریکہ میں اسرائیل کے سفیر( 2013 سے 2021 تک رہ چکے ہیں)۔رون ڈرمر