Latest News

پریکشا پہ چرچا: مستقبل کے ہندوستان کے لئے طلبہ کو تیار کرنا

پریکشا پہ چرچا: مستقبل کے ہندوستان کے لئے طلبہ کو تیار کرنا

اس سال ' پریکشا پہ چرچا ' کا انعقاد ہندوستان  کے تعلیمی سفر میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن تبدیلی کو نمایاں کرتا ہے۔ معزز وزیر اعظم کی قیادت میں شروع ہونے والح یہ پہل ، جو 2018 میں ایک واحد سالانہ مکالمے کے طور پر شروع ہوئی  تھی ، اب ایک عالمی اجتماعی کوشش بن چکی ہے، جس میں طلبہ کی ہمہ جہت فلاح کو مرکز میں رکھا گیا ہے اور والدین و اساتذہ اس مشترکہ ذمہ داری کے سرگرم شراکت دار ہیں۔
اس سال شرکت کا دائرہ اس پہل کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ 4.5  کروڑ سے زائد رجسٹریشن کے ساتھ پریکشا پہ چرچا نے گزشتہ گنیز ورلڈ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اب عوامی رابطے سے آگے بڑھ کر اجتماعی ملکیت کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ غیر معمولی شرکت ایک ایسے سازگار ماحول کی تشکیل کے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ہر بچہ سیکھ سکے، ترقی کر سکے اور حقیقی معنوں میں پھل - پھول سکے ۔
وزیر اعظم کی متاثر کن قیادت کا مظاہرہ یہ ہے کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا تعلیم، مطالعہ اور امتحان سے جڑے تناؤ   جیسے موضوعات پر طلبہ کے ساتھ مکالمہ، ہمدردی، عملی سوچ اور متاثر کن قیادت کا ایک منفرد امتزاج پیش کرتا ہے۔ رسمی پروٹوکول کی پیچیدگیوں سے ہٹ کر طلبہ کے ساتھ رہنما، سرپرست اور خیر خواہ کے طور پر جڑنے کی فطری صلاحیت وزیر اعظم کو منفرد بناتی ہے۔ یہ ذاتی انداز امتحان سے وابستہ تناؤکو کم کرتے ہوئے ایک پراعتماد اور مثبت ماحول تشکیل دیتا ہے، جہاں طلبہ اعتماد کے ساتھ سیکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ پاتے ہیں۔
ہر بچے کی انفرادیت کی پہچان :  اس کوشش کے مرکز میں ایک سادہ مگر نہایت مضبوط حقیقت موجود ہے کہ ہر بچہ خاص ہے۔ ہر بچہ مختلف انداز میں سیکھتا ہے، اپنی رفتار سے آگے بڑھتا ہے اور اپنے اندر ایسی صلاحیتیں رکھتا ہے جنہیں صرف نمبروں یا رینک تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ امتحانات اپنی فطرت کے مطابق بچے کی صلاحیت کے صرف ایک محدود پہلو کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہمہ گیر شخصیت کی تشکیل کے ذریعے ہی اس کی حقیقی تخلیقی صلاحیت اور امتیاز نشوونما پاتا ہے۔ یہ اختلافات کسی بھی طرح کی کمی نہیں ہیں بلکہ یہی ایک متنوع، مضبوط اور اختراعی سماج کی بنیاد ہیں۔
این ای پی 2020 کے وژن کا عکس :  یہ فلسفہ قومی تعلیمی پالیسی این ای پی 2020 کے بنیادی تصور میں شامل ہے۔ اس فریم ورک کے تحت تعلیمی نظام، نصاب اور جانچ کے طریقوں کو ایک حقیقی بچے پر مرکوز نقطہ نظر کے مطابق از سر نو ترتیب دیا جا رہا ہے، جہاں تعلیمی مطالعے کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، جذباتی ذہانت، جسمانی صحت اور اخلاقی اقدار کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ جانچ سے متعلق اصلاحات بھی اسی مقصد کو واضح کرتی ہیں۔
پہلی بار 10 ویںجماعت کے بورڈ امتحانات اب سال میں دو بار منعقد کیے جائیں گے، جس سے طلبہ کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے زیادہ لچک ملے گی اور زیادہ دبا والی واحد امتحانی صورت حال سے جڑا تناؤ کم ہو گا۔360  ڈگری ہمہ گیر ترقی کارڈ نافذ کیے گئے ہیں، جو نہ صرف بچے کی تعلیمی کامیابیوں کا جائزہ لیتے ہیں بلکہ اس کی سماجی، جذباتی اور جسمانی نشوونما کو بھی مکمل طور پر درج کرتے ہیں۔ ہر سی بی ایس ای اسکول میں کونسلرز کی تقرری کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جو طلبہ کو تعلیمی اور جذباتی دباؤ کے انتظام میں مسلسل تعاون فراہم کریں گے۔
ہمہ گیر تعلیم مرکزی نکتہ :   آج کی تعلیم صرف درسی کتابوں، امتحانات اور رٹنے تک محدود نہیں رہی۔ ہمہ گیر تعلیم پر واضح توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ بات بخوبی سمجھ لی گئی ہے کہ صرف تعلیمی برتری طلبہ کو اکیسویں صدی کے چیلنجز کے لیے تیار نہیں کرتی۔ فکر، خوف یا جذباتی دباؤ کے بوجھ تلے بچے بامعنی طور پر سیکھ نہیں سکتے۔  ہندوستان  کی تہذیبی روایات اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل آگہی یعنی مائنڈفل نیس، پرانایام اور یوگ جیسے پائیدار ذرائع فراہم کرتی ہیں۔
چیلنجز کا حل :  اس کے باوجود ہمیں آج کے ایک خاص جدید چیلنج یعنی حد سے زیادہ ڈیجیٹل استعمال اور اسکرین ٹائم کا سامنا ہے۔ طویل عرصے تک مسلسل ڈیجیٹل آلات کے استعمال سے توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، نیند میں خلل پڑتا ہے اور ذہنی و جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے۔ مسلسل کنیکٹیویٹی، آن لائن موازنہ اور ڈیجیٹل حد سے زیادہ تحریک کا دباؤ اکثر امتحانی تناؤ کو بڑھا دیتا ہے اور اس مائنڈفل نیس کو کمزور کرتا ہے جسے ہم بچوں میں فروغ دینا چاہتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں والدین اور اساتذہ مل کر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آلات کے استعمال کے لیے محفوظ حدود طے کر کے، اور جسمانی سرگرمیوں، تخلیقی کوششوں اور خاندانی گفتگو جیسے متبادل طریقوں کی حوصلہ افزائی کے ذریعے ہم دوبارہ توازن قائم کر سکتے ہیں۔
بچے ترقی کے پیش رو:   آج کے بچے وکست بھارت 2047 کے پیش رو ہیں۔ وہ بچے جو اعتماد کے ساتھ اختراع کرتے ہیں اور اپنی ثقافتی جڑوں میں مضبوطی کے ساتھ دنیا سے جڑے رہتے ہیں، وہی موجودہ دور میں وکست بھارت کی تعمیر کر رہے ہیں۔ ایسے بچوں کی حمایت ایک ایسے تعلیمی نظام کے ذریعے کی جانی چاہیے جو دماغ، دل اور ہاتھ تینوں کی ترقی پر مرکوز ہو، ایسا نظام جو صلاحیت کا جشن منائے، مقصد کو پروان چڑھائے اور انہیں بامقصد زندگی کے لیے تیار کرے۔ یہی پریکشا پہ چرچا کی روح ہے، بچوں کو خوف سے آزاد کرنا اور انہیں بھارت 2047 کے لیے اعتماد سے بھرپور شہری کے طور پر تیار کرنا۔
دھرمندر پردھان ( وزیر تعلیم، حکومت ہند) 
 



Comments


Scroll to Top