انٹرنیشنل ڈیسک: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو بھارت کے 77 ویں یوم جمہوریہ کے جشن پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سب سے قدیم اور سب سے بڑے جمہوریت ہونے کے ناطے امریکہ اور بھارت ایک تاریخی رشتہ شیئر کرتے ہیں۔ ٹرمپ کی مبارکباد ایسے وقت میں آئی ہے جب امریکہ کی تجارتی اور محصولات کی پالیسیوں سمیت کئی مسائل پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ہے۔ انہوں نے کہا،امریکہ کی عوام کی طرف سے، میں بھارت کی حکومت اور عوام کو ان کے 77 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔
امریکی صدر نے کہا، امریکہ اور بھارت دنیا کے سب سے قدیم اور سب سے بڑے جمہوریت ہونے کے ناطے ایک تاریخی رشتہ شیئر کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ پیغام نئی دہلی میں قائم امریکی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی یوم جمہوریہ کے موقع پر بھارت کو مبارکباد دی اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا، دفاع، توانائی، اہم معدنیات اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں ہمارے قریبی تعاون سے لے کر 'کواڈ' کے ذریعے ہماری کثیر سطحی شراکت داری تک، امریکہ-بھارت تعلقات ہمارے دونوں ممالک اور ہند-بحرالاقیانوس خطے کے لیے حقیقی نتائج فراہم کرتے ہیں۔
روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ وہ مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے کے بارے میں پر امید ہیں۔ بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بھی فرائض کی انجام دہی کے بعد یوم جمہوریہ کے جشن میں حصہ لے کر بھارت کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا، بھارت کو یوم جمہوریہ کی دلی مبارکباد! بھارت کے آئین اور جمہوری جذبے کے جشن، یوم جمہوریہ پریڈ میں پہلی بار شامل ہو کر میں خود کو اعزاز محسوس کر رہا ہوں۔ بھارتی آسمان میں امریکہ کے بنائے ہوئے ہوائی جہاز کو اڑتے دیکھ کر میں پرجوش ہوں، جو امریکہ-بھارت اسٹریٹجک شراکت داری کی طاقت کی ایک مضبوط علامت ہے۔
پریڈ میں امریکہ کابنایا ہوا ٹرانسپورٹ طیارہ سی-130جے اور اپاچی ہیلی کاپٹر سمیت کئی لڑاکا طیارے تھے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی اشیاءپر 50 فیصد محصول عائد کرنے کے بعد بھارت-امریکہ تعلقات میں شدید کمی آئی، جس میں روسی تیل کی خرید پر 25 فیصد کا تعزیری محصول بھی شامل تھا۔ محصولات کے علاوہ کئی دیگر مسائل پر بھی تعلقات تناو کا شکار ہیں، جن میں گزشتہ سال مئی میں ٹرمپ کی جانب سے بھارت-پاکستان تنازع ختم کرنے کا دعویٰ اور امریکہ کی نئی امیگریشن پالیسی شامل ہیں۔