Latest News

ہیلو سر، یہ مائیکرو سافٹ ہے ۔۔۔ اور پھر ایک ہی کال سے خالی ہو گیا بنک اکاؤنٹ، جانئے کیسے بچیں

ہیلو سر، یہ مائیکرو سافٹ ہے ۔۔۔ اور پھر ایک ہی کال سے خالی ہو گیا بنک اکاؤنٹ، جانئے کیسے بچیں

نیشنل ڈیسک: امریکہ کے ایک چھوٹے شہر میں ایک معمر شخص کے لیپ ٹاپ پر اچانک پیغام آیا کہ ان کا سسٹم ہیک ہو گیا ہے اور فوراً مائیکروسافٹ سپورٹ سے رابطہ کریں۔ خوف کے مارے انہوں نے اسکرین پر دکھائے گئے نمبر پر کال کر دی۔ فون کے دوسری جانب سے آنے والی آواز کہتی ہے، ہیلو سر، یہ مائیکروسافٹ ٹیکنیکل سپورٹ ہے(“Hello Sir, this is Microsoft Technical Support) ۔ اسی کال کے بعد ان کی ساری جمع پونجی نکال لی گئی۔ یہ معاملہ صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے بلکہ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی ایسے ہزاروں واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق ان جعلی کال آپریشنز کی جڑیں بھارت میں ہیں۔
جعلی کال سینٹر کیسے کام کرتے ہیں
تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ یہ کال سینٹر مکمل طور پر پیشہ ورانہ انداز میں چلائے جاتے ہیں۔ ایجنٹس کو خوف اور اعتماد پیدا کرنے، رقم نکلوانے اور ذہنی دباؤ  ڈالنے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔ تمام ایجنٹس کو برطانوی یا امریکی لہجے میں انگریزی بولنے کی تربیت دی جاتی ہے اور ان کے جعلی نام رکھے جاتے ہیں۔
نقلی الرٹ کے ذریعے شکار بنایا جاتا ہے
یہ پورا کھیل اکثر جعلی پاپ- اپ یا سسٹم الرٹ سے شروع ہوتا ہے۔ صارف کو دکھایا جاتا ہے کہ اس کا کمپیوٹر وائرس سے متاثر ہو چکا ہے یا بینک اکاؤنٹ خطرے میں ہے۔ بعض معاملات میں تلاش کے نتائج میں ہی جعلی ہیلپ لائن نمبرز اوپر دکھا دیے جاتے ہیں۔ جب شکار کال کرتا ہے تو ایجنٹ خود کو مائیکروسافٹ، ایمیزون یا بینک سپورٹ بتا کر گفتگو شروع کرتا ہے۔
ریموٹ رسائی کے ذریعے کنٹرول
اس کے بعد متاثرہ شخص کے کمپیوٹر پر اینی ڈیسک یا ٹیم ویوئر جیسے ریموٹ ایکسس ٹول ( رسائی کے ٹولز ) انسٹال کروا لیے جاتے ہیں۔ ایجنٹ کمپیوٹر کا کنٹرول سنبھال کر جعلی سسٹم خرابی یا جھوٹے بینک لاگ  دکھا کر شکار کو خوفزدہ کرتا ہے۔ خوف اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ متاثرہ شخص بغیر سوچے سمجھے رقم بھیج دیتا ہے۔ ادائیگی عموماً گفٹ کارڈ، کرپٹو کرنسی یا وائر ٹرانسفر کے ذریعے کروائی جاتی ہے تاکہ اس کا سراغ لگانا مشکل ہو۔
 ہندوستان  سے بین الاقوامی آپریشن
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ  ہندوستان  میں پکڑے گئے کئی کال سینٹر مکمل طور پر غیر ملکی ممالک کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ایجنٹس کو اسکرپٹ، کال لاگز، وی پی این، بین الاقوامی نمبرز اور جذباتی دباؤ ڈالنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جرم اب صرف سائبر فراڈ نہیں رہا بلکہ ایک بین الاقوامی منظم جرم بن چکا ہے۔
سرکاری اور بین الاقوامی کارروائی
سی بی آئی اور ای ڈی وقتاً فوقتاً ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں۔ امریکہ اور دیگر ممالک کی ایجنسیاں  ہندوستانی اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی ایسے جعلی نیٹ ورکس کو بلاک کرنے کا دعوی کرتی ہیں۔
مسئلہ صرف گرفتاری تک محدود نہیں
ماہرین کے مطابق یہ ماڈل سستا، تیز اور منافع بخش ہے۔ ڈیجیٹل ٹولز، وی پی این اور جعلی شناختوں کی وجہ سے اصل سرغنوں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خوف کی نفسیات انسان کو جلد توڑ دیتی ہے، جس کے باعث متاثرہ شخص سوال کرنے کی حالت میں نہیں رہتا۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سائبر فراڈ کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں 1930 ہیلپ لائن اور سائبر کرائم پورٹل کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی دھوکہ دہی کا شبہ ہو فوراً رپورٹ کرنا چاہیے، ورنہ رقم کی واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ ماہرین کی وارننگ ہے کہ جب تک لیڈ جنریشن، ادائیگی کے ذرائع اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بیک وقت سخت کارروائی نہیں کی جائے گی، تب تک یہ عالمی اسکام نئے ناموں اور نئے طریقوں سے چلتا رہے گا۔
 



Comments


Scroll to Top