انٹر نیشنل ڈیسک : سوشل میڈیا کی دنیا سے ایک دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ اٹلی کی مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر یولیا بورتسیوا (Yulia Burtseva) کی روس میں کاسمیٹک سرجری کے دوران موت ہو گئی۔ اس افسوسناک واقعے نے خوبصورتی کے آپریشنز اور جسم کے ساتھ کیے جانے والے خطرناک تجربات کی حفاظت پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یولیا بورتسیوا کون تھیں
38 سالہ یولیا اٹلی کے شہر نیپلز کی رہنے والی تھیں اور سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں۔ انسٹاگرام پر ان کے تقریباً70 ہزار فالوورز تھے۔ وہ اکثر اپنی کمسن بیٹی اور شوہر جیوسیپے کے ساتھ طرزِ زندگی، صحت سے متعلق اور تفریحی وی لاگز شیئر کرتی تھیں۔ مداح انہیں ایک خوش مزاج ماں اور فٹنس کے بارے میں باخبر خاتون کے طور پر جانتے تھے۔

اٹلی سے روس تک جان لیوا سفر
یولیا اپنی جسمانی ساخت کو مزید دلکش بنانے کے لیے ایک خاص سرجری کروانا چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے روس کے دارالحکومت ماسکو کا انتخاب کیا۔ چار جنوری کو ماسکو پہنچنے کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز بھی شیئر کیں جن میں وہ کافی پرجوش نظر آ رہی تھیں۔ رپورٹوں کے مطابق یولیا نے اپنے جسم کے نچلے حصے کو بہتر بنانے کے لیے سرجری کروائی تھی۔

موت کیسے ہوئی، 'اینافلیکٹک شاک' نے لی جان
میڈیا رپورٹوں کے مطابق سرجری کے عمل کے دوران یولیا کی حالت اچانک بگڑنے لگی۔ ڈاکٹروں کے مطابق سرجری کے دوران انہیںاینافلیکٹک شاک ہو گیا۔ یہ ایک انتہائی سنگین اور جان لیوا الرجی ردِعمل ہوتا ہے جو بے ہوشی کی دوا یا دیگر ادویات کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ اس حالت میں مریض کا بلڈ پریشر تیزی سے گر جاتا ہے، جسم میں سوجن آ جاتی ہے اور سانس لینے میں دشواری ہونے لگتی ہے۔ ہسپتال لے جانے کے باوجود ڈاکٹر ان کی جان نہ بچا سکے۔

بیوٹی انڈسٹری کے لیے بڑی وارننگ
ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کو خوبصورت دکھانے کی دوڑ اور سستے ممالک میں جا کر سرجری کروانے کا رجحان، جسے میڈیکل ٹورزم کہا جاتا ہے، اکثر خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
سیکورٹی پر سوالات
کیا کلینک میں مناسب ہنگامی سہولتیں موجود تھیں۔ کیا سرجری سے پہلے الرجی کے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ ان سوالات کی جانچ روس کی پولیس کر رہی ہے۔