انٹرنیشنل ڈیسک: یوکرین کی جنگ کو لے کر امریکہ نے اب معاشی محاذ پر بڑا حملہ کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر پانچ سو فیصد تک ٹیرف لگانے والے بل کی کھل کر حمایت میں سامنے آ گئے ہیں۔ اس قدم سے ہندوستان سمیت کئی ممالک پر براہ راست دبا ؤبڑھنا طے سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر پانچ سو فیصد تک بھاری ٹیرف لگانے والے بل کی حمایت کی ہے۔ اس تجویز کا مقصد ان ممالک پر سخت معاشی دباؤ بنانا ہے جو سستا روسی تیل خرید کر یوکرین میں جاری جنگ کے لیے روس کی مدد کر رہے ہیں۔
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے بتایا کہ یہ دو جماعتی بل صدر ٹرمپ کو چین، ہندوستان اور برازیل جیسے ممالک کے خلاف سخت کارروائی کا اختیار دے گا۔ گراہم کے مطابق یہ بل روس پر پابندیوں کو مزید مؤثر بنانے کا سب سے مضبوط ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین امن کے لیے رعایتیں دے رہا ہے، جبکہ صدر ولادیمیر پوتن صرف بیانات دے رہے ہیں اور جنگ جاری ہے۔ ایسے میں روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر بھاری ٹیرف لگا کر پوتن کی جنگی مشین کو معاشی طور پر کمزور کرنا ضروری ہے۔
اس مجوزہ قانون' سینکش ننگ رشیا ایکٹ ، 2025 'کے تحت روسی تیل کی ثانوی خرید اور دوبارہ فروخت پر پانچ سو فیصد تک محصول لگایا جا سکے گا۔ اسے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے زیادہ تر ارکان کی حمایت حاصل ہے اور اگلے ہفتے اس پر رائے شماری ممکن ہے۔ گراہم نے دعوی کیا کہ امریکہ کی جانب سے ہندوستان پر پہلے سے لگائے گئے پچیس فیصد محصول کے بعد ہندوستان نے روسی تیل کی خرید میں کمی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف کا یہ دبا ؤاثر دکھا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان جیسے ممالک اب اپنے توانائی سے متعلق فیصلوں پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔