انٹر نیشنل ڈیسک : ایران کے جلاوطنی میں رہنے والے کراون پرنس رضا پہلوی نے حکومت مخالف تحریک کو فیصلہ کن موڑ دینے کی اپیل کرتے ہوئے ملک کے اہم اقتصادی شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین سے ہڑتال کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے مظاہرین سے تہران سمیت بڑے شہروں کے مرکزی علاقوں پر قبضہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ ایرانی عوام نے اپنی بہادری اور عزم کے ذریعے پوری دنیا کی تعریف حاصل کی ہے۔ انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کودھوکہ باز اور مجرمانہ رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر جمع ہونے والی بھیڑ نے حکومت کو ہلا دیا ہے۔
انہوں نے کہااب وقت آ گیا ہے کہ صرف سڑکوں پر موجودگی تک محدود نہ رہیں بلکہ اس ظالم نظام کی اقتصادی رگوں کو کاٹ دیا جائے۔پہلوی نے خاص طور پر ٹرانسپورٹ، تیل، گیس اور توانائی کے شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین سے ملک گیر ہڑتال شروع کرنے کی اپیل کی۔ رضا پہلوی نے مظاہرین سے کہا کہ ہفتے اور اتوار کی شام 6 بجے سے جھنڈے، تصاویر اور قومی نشانوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں اور شہروں کے مرکزی علاقوں کی طرف بڑھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف راستوں سے آنے والی بھیڑ متحد ہو کر عوامی جگہوں پر کنٹرول قائم کرے۔
انہوں نے نوجوانوں اور سکیورٹی فورسز کے ان ارکان سے بھی اپیل کی جو اب تحریک کی حمایت کر رہے ہیں کہ وہ ظلم کرنے والی مشینری کو سست اور غیر فعال کریں۔ پہلوی نے دعویٰ کیا کہ وہ خود بھی ایران واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں اور قومی انقلاب کی فتح کا لمحہ بہت قریب ہے۔اس دوران، انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کے مطابق 8 جنوری کے بعد سے 22 صوبوں میں 116 سے زائد مظاہرے درج کیے گئے ہیں، جن میں 20 بڑے مظاہرے شامل ہیں۔ انٹرنیٹ بلیک آوٹ کے باوجود، کچھ مظاہرین اسٹارلنک کے ذریعے معلومات باہر بھیج رہے ہیں۔ نیٹ بلاکس کے مطابق، ایران میں قومی سطح پر انٹرنیٹ 36 گھنٹے سے زیادہ بند ہے۔اس سے پہلے ہی آسٹریلیا، کینیڈا اور یورپی اتحاد نے ایران میں مظاہرین کے قتل اور گرفتاریوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے مہلک طاقت کے استعمال کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔