Latest News

گرین لینڈ پر ٹرمپ کی ٹیرف دھمکی سے یورپ مشتعل ، کہا- بلیک میل مت کرو، متحد ہو کر دیں گے جواب

گرین لینڈ پر ٹرمپ کی ٹیرف دھمکی سے یورپ مشتعل ، کہا- بلیک میل مت کرو، متحد ہو کر دیں گے جواب

انٹرنیشنل ڈیسک: گرین لینڈ کو لے کر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکی نے امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ نیدرلینڈز نے اس قدم کو کھلا بلیک میل قرار دیا ہے، جبکہ یورپی یونین اور کئی رکن ممالک نے متحد ہو کر امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ دباؤ کی سیاست قبول نہیں کی جائے گی۔ ڈچ وزیر خارجہ ڈیوڈ وان ویل نے ڈچ سرکاری نشریاتی ادارے کے ایک پروگرام میں کہا کہ سیاسی یا فوجی دباؤ ڈالنے کے لیے تجارتی محصولات کا استعمال مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے امریکہ سے یکم فروری سے نافذ ہونے والے مجوزہ ٹیرف واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہر آپشن کھلا رہے گا۔
دراصل، ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ یکم فروری سے ڈنمارک، نیدرلینڈز، جرمنی، فرانس، برطانیہ، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ سے آنے والی اشیا ء پر دس فیصد ٹیرف عائد کرے گا، جسے جون میں بڑھا کر25  فیصد کر دیا جائے گا۔ یہ محصولات اس وقت تک نافذ رہیں گے جب تک امریکہ اور گرین لینڈ کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔ گرین لینڈ ڈنمارک کے زیر انتظام ایک خود مختار خطہ ہے، جبکہ دفاع اور خارجہ پالیسی کا اختیار کوپن ہیگن کے پاس ہے۔ امریکہ پہلے ہی وہاں ایک فوجی اڈہ چلا رہا ہے، اور ٹرمپ 2025  میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے مسلسل گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ یورپ کا ردعمل غیر معمولی طور پر متحد رہا ہے۔ ڈنمارک، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، برطانیہ سمیت آٹھ ممالک نے مشترکہ بیان جاری کر کے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا کہ یورپی یونین کسی بھی قسم کے دباؤ کے خلاف اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔ جرمنی کے نائب چانسلر لارس کلنگ بائل نے کہا کہ اب ایک ریڈ لائن عبور ہو چکی ہے۔ وہیں ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے صاف الفاظ میں کہا کہ یورپ کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی امریکی ٹیرف کو غلطی قرار دیا اور کہا کہ آرکٹک خطے کی سلامتی سے متعلق فیصلوں کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ 
یورپی پارلیمنٹ میں یہاں تک بحث ہو رہی ہے کہ امریکہ کے خلاف اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ جیسے سخت معاشی اقدامات کیے جائیں، جن کے تحت بھاری جوابی ٹیرف اور پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، گرین لینڈ کو لے کر یہ تصادم ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو سنگین معاشی اور سفارتی ٹکراؤ کی جانب دھکیل سکتا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top