نیشنل ڈیسک: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کا اثر اب بین الاقوامی فضائی آمدورفت پر بھی واضح طور پر دکھائی دینے لگا ہے۔ سلامتی کے اسباب کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستانی فضائی کمپنی انڈیگو نے 28 جنوری 2026 تک اپنی متعدد بین الاقوامی پروازیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے کمپنی نے مسافروں کے لیے سفری ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کی معلومات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ذریعے شیئر کی گئی ہیں۔

انڈیگو نے پروازیں کیوں منسوخ کیں
انڈیگو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران کے آس پاس کے علاقوں میں بنتی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور پروازوں کے آپریشن کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق مسافروں کی سلامتی اس کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ موجودہ حالات اور خطرات کا اندازہ لگانے کے بعد انڈیگو نے26 ،27 اور28 جنوری 2026 کو تبلیسی، الماتی، تاشقند اور باکو سے چلنے والی پروازوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کچھ پروازوں کے راستوں میں تبدیلی
انڈیگو نے بتایا کہ تمام پروازیں منسوخ نہیں کی گئی ہیں بلکہ بعض پروازوں کے آپریشن میں تبدیلی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر 26 جنوری کو چلنے والی کچھ بین الاقوامی پروازوں کے لیے دوحہ میں ایندھن بھرنے کے لیے قیام رکھا گیا ہے۔ اس سے مسافروں کے مجموعی سفر کے دورانیے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایئر لائن نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی پرواز کی تازہ صورتحال جاننے کے لیے انڈیگو کی سرکاری ویب سائٹ اور ایپ پر باقاعدگی سے معلومات چیک کرتے رہیں۔
ایئر انڈیا نے بھی راستہ بدلا
اسی دوران ایئر انڈیا نے بھی یورپ جانے اور وہاں سے آنے والی اپنی پروازوں کے لیے ایران کی فضائی حدود کا استعمال بند کر دیا ہے۔ دراصل 16 جنوری کو یورپی یونین کی فضائی سلامتی ایجنسی کی جانب سے جاری کی گئی ہدایت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ یہ ہدایت یورپی یونین کے اندر اور وہاں سے پرواز کرنے والی ایئر لائنز کے لیے نافذ کی گئی تھی۔
اب کن فضائی راستوں کا استعمال ہو رہا ہے
فی الحال ایئر انڈیا اور کئی دیگر بین الاقوامی ایئر لائنز عراق کی فضائی گزرگاہ کا استعمال کر رہی ہیں۔ تاہم امریکہ کے مشرقی ساحل سے پروازوں پر موسم کی شدت بھی اثر انداز ہو رہی ہے جہاں برفانی طوفان کے باعث کئی پروازیں متاثر ہیں۔ جب وہاں سے پروازیں معمول پر آ جائیں گی تو ایئر انڈیا حالات کا جائزہ لے کر ایران کے مشرقی اور نسبتاً محفوظ حصے سے پرواز کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔