National News

بنگلہ دیش میں ایک اور ہندو نوجوان کی موت: مار پیٹ اور ذلت سے ٹوٹے جئے نے زہر کھا کردی جان (ویڈیو)

بنگلہ دیش میں ایک اور ہندو نوجوان کی موت: مار پیٹ اور ذلت سے ٹوٹے جئے نے زہر کھا کردی جان (ویڈیو)

انٹرنیشنل ڈیسک: بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندو برادری کے خلاف تشدد کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔تازہ معاملہ سونام گنج ضلع کے دیرائی اپازلا کا ہے، جہاں انیس سالہ ہندو نوجوان جئے موہا پاترا نے مبینہ توہین، مار پیٹ اور دھمکیوں سے دلبرداشتہ ہو کر زہر کھا لیا۔علاج کے دوران جمعہ کو سلہٹ کے ایم اے جی عثمانی میڈیکل کالج ہسپتال میں اس کی موت ہو گئی۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جئے نے ایک دکاندار امیرال اسلام سے پانچ ہزار پانچ سو ٹکا کا موبائل فون خریدا تھا۔اس نے دو ہزار ٹکا نقد دیے تھے اور باقی رقم پانچ سو ٹکا کی ہفتہ وار قسطوں میں ادا کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔


الزام ہے کہ آخری قسط میں تاخیر ہونے پر دکاندار نے جئے کے ساتھ مار پیٹ کی، اسے ذلیل کیا اور اس کا موبائل فون ضبط کر لیا۔جئے کے چچازاد بھائی آیان داس کے مطابق، جمعرات کی شام کو جئے نے زہر کھانے کی بات قبول کی تھی۔پہلے اسے دیرائی اپازلا ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر ڈاکٹروں نے سلہٹ ریفر کر دیا، لیکن اس کی جان نہیں بچ سکی۔جئے کی ماں شیلی موہا پاترا نے الزام لگایا کہ پیسے نہ ملنے پر دکانداروں نے ان کے بیٹے کو تھپڑ مارے اور موبائل چھین لیا۔پولیس نے واقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ شکایت ملنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ گزشتہ بائیس دنوں میں ہندووں کے خلاف آٹھویں پرتشدد موت ہے۔
اس سے پہلے ناوگاو¿ں، نر سنگدی، جیسور، شریعت پور اور میمن سنگھ اضلاع میں ہندوو¿ں کی ہجوم کے ہاتھوں قتل، گولی مار کر ہلاکت اور حملوں کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔مسلسل ہو رہے ان واقعات پر بھارت نے گہری تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور امید کرتا ہے کہ وہاں کی حکومت فرقہ وارانہ تشدد پر سخت قدم اٹھائے گی۔



Comments


Scroll to Top