National News

ٹرمپ کا تاریخی کا فیصلہ بنا ہندوستان کے لئے بری خبر! امریکہ نے 66 بین الاقوامی تنظیموں- معاہدوں سے توڑا ناطہ

ٹرمپ کا تاریخی کا فیصلہ بنا ہندوستان کے لئے بری خبر! امریکہ نے 66 بین الاقوامی تنظیموں- معاہدوں سے توڑا ناطہ

 واشنگٹن:  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کو60  سے زائد بین الاقوامی تنظیموں سے نکالنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ فیصلہ  ہندوستان کے لیے بری خبر سمجھا جا رہا ہے۔ ان تنظیموں میں  ہندوستان اور فرانس کی قیادت والا بین الاقوامی شمسی اتحاد (International Solar Alliance ISA)  بھی شامل ہے، جسے ہندوستان کی اہم موسمی سفارتی پہل مانا جاتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ان اداروں کو امریکہ کے قومی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان میں شرکت اور مالی اعانت ختم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ امریکہ  کا بین الاقوامی شمسی اتحاد سے الگ ہونا  ہندوستان کی اس کوشش کو دھچکا ہے، جس کے تحت وہ ترقی پذیر ممالک میں صاف توانائی، شمسی سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کو فروغ دے رہا تھا۔ ان میں 31 اقوام متحدہ کے ادارے اور35 غیر اقوام متحدہ تنظیمیں شامل ہیں، جن میں  ہندوستان  فرانس کی مشترکہ پہل بین الاقوامی شمسی اتحاد  (ISA )بھی شامل ہے۔
 ہندوستان پر ممکنہ اثرات

  • بین الاقوامی شمسی اتحاد ہندوستان کی عالمی قیادت کی شبیہ کا ایک اہم ستون رہا ہے۔ امریکہ  جیسے بڑے معیشتی ملک کی واپسی  ہندوستان  کے لیے سفارتی دھچکا ہے، جس سے اس پلیٹ فارم کی سیاسی طاقت کمزور ہو سکتی ہے۔
  • امریکی شمولیت کم ہونے سے شمسی منصوبوں کے لیے کثیر فریقی مالی اعانت اور نجی سرمایہ کاری پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
  • موسمیاتی تبدیلی پر عالمی اتفاق رائے بنانے میں  ہندوستان  کو اضافی سفارتی کوششیں کرنی پڑ سکتی ہیں۔
  • ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی شمسی اتحاد کے سو سے زائد ممالک رکن ہیں اور ہندوستان فرانس کی قیادت برقرار رہے گی، لیکن امریکہ کا الگ ہونا عالمی پیغام کے اعتبار سے منفی اشارہ دیتا ہے۔ اس سے صاف توانائی پر کثیر فریقی تعاون کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔
  •  ہندوستان  کے لیے آئندہ حکمت عملی میں یورپ، افریقہ اور ایشیا بحرالکاہل کے شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانا اور متبادل فنڈنگ نظام مضبوط کرنا اہم ہوگا، تاکہ امریکی قدم سے پیدا ہونے والے  خلا کو پر کیا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ان تنظیموں کو امریکہ کی مالی اعانت اور شمولیت جلد از جلد ختم کر دی جائے گی۔ ٹرمپ نے تمام وفاقی محکموں اور ایجنسیوں کو اس حکم پر فوری عمل درآمد کی ہدایت دی ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ امریکہ اب نہ تو ان اداروں کو فنڈ دے گا اور نہ ہی ان میں شرکت کرے گا، جو امریکی مفادات کو پورا نہیں کرتے۔ ادھر وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان تنظیموں کو غیر ضروری، بدانتظامی کا شکار، فضول خرچی اور نظریاتی ایجنڈے سے متاثر قرار دیا۔
روبیو کے مطابق کئی بین الاقوامی تنظیمیں تنوع، مساوات اور شمولیت، صنفی مساوات کی مہمات اور موسمیاتی ایجنڈوں کے نام پر امریکی خودمختاری کو محدود کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر اب ایسے اداروں پر خرچ نہیں کیے جائیں گے۔ جن اہم اداروں سے امریکہ باہر نکل رہا ہے ان میں بین الحکومتی موسمیاتی تبدیلی پینل (IPCC)، بین الاقوامی شمسی اتحاد، اقوام متحدہ برائے خواتین، اقوام متحدہ آبادی فنڈ، اقوام متحدہ موسمیاتی تبدیلی فریم ورک کنونشن، امن سازی کمیشن اور اقوام متحدہ تجارت و ترقی کانفرنس شامل ہیں۔ ٹرمپ پہلے بھی اقوام متحدہ کے ناقد رہے ہیں۔ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز میں ہی انہوں نے پیرس موسمیاتی معاہدے سے امریکہ کو دوبارہ باہر نکالا اور اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل اور یو این آر ڈبلیو اے سے بھی دوری اختیار کر لی تھی۔
 



Comments


Scroll to Top