انٹرنیشنل ڈیسک: بنگلہ دیش میں ہندو برادری پر بڑھتے ہوئے حملوں کا سلسلہ تھمتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اسلامی ہجوم کے تشدد کا شکار ہونے والے ایک اور ہندو شہری کھوکن داس کی ہفتے کے روز موت ہوگئی ہے ۔ کھوکن داس پر چند روز قبل ایک ہجوم نے حملہ کیا تھا اور بے رحمی سے تشدد کرنے کے بعد انہیں آگ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ شدید طور پر جھلسے ہوئے کھوکن کا علاج ڈھاکہ کے ایک بڑے ہسپتال میں جاری تھا، جہاں ہفتے کی صبح انہوں نے دم توڑ دیا۔
بنگلہ دیش حکومت کی جانب سے کوئی مدد نہیں
کھوکن داس کے ایک رشتہ دار نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی موت صبح 8 بج کر 45 منٹ پر ہوئی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے، لیکن تاحال اہل خانہ کے حوالے نہیں کی گئی ہے۔ رشتہ دار نے الزام عائد کیا کہ بنگلہ دیش حکومت کی جانب سے اب تک کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حملے میں شامل تینوں ملزمان ابھی تک فرار ہیں۔ کھوکن داس اپنے خاندان کے واحد کمانے والے فرد تھے۔ ان کے خاندان میں اہلیہ اور تین بیٹے شامل ہیں۔
گاؤں میں دوا اور موبائل بینکنگ کا کاروبار
کھوکن داس ڈھاکہ سے تقریبا 150 کلومیٹر دور اپنے گاؤں میں دوا کی دکان اور موبائل بینکنگ کا کاروبار کرتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز دکان بند کر کے گھر واپس جاتے وقت ان پر حملہ کیا گیا۔ حملہ آوروں نے پہلے ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور پھر پٹرول ڈال کر آگ لگا دی۔ آگ سے بچنے کے لیے کھوکن کسی طرح قریبی تالاب میں کود گئے، لیکن اس وقت تک وہ شدید طور پر جھلس چکے تھے۔ ان کے جسم پر کئی گہرے زخم بھی تھے۔
علاج کے دوران موت
مقامی لوگوں نے انہیں پہلے قریبی ہسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے حالت نازک دیکھتے ہوئے انہیں ڈھاکہ کے ایک بڑے ہسپتال منتقل کر دیا۔ کئی دنوں تک علاج جاری رہنے کے باوجود جمعے کو ان کی موت ہو گئی۔ گزشتہ 15 دنوں میں بنگلہ دیش میں ہندو برادری کے چار افراد کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ 18 دسمبر کو دیپو چندر داس کو قتل کیا گیا تھا، جبکہ 24 دسمبر کو امرت منڈل کو ہجوم کے تشدد میں مار دیا گیا تھا۔ چند روز قبل بجیندر وشواس کو گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ اب کھوکن داس کی موت نے اقلیتی برادری کی سلامتی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔