انٹرنیشنل ڈیسک: بنگلہ دیش میں ہندو برادری کے خلاف تشدد مسلسل بڑھتا جا رہا ہے اور حالات انتہائی تشویشناک ہوتے جا رہے ہیں۔ تازہ معاملہ ضلع ناگاؤں سے سامنے آیا ہے، جہاں25 سالہ ہندو نوجوان متھن سرکار کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ شدت پسندوں نے نوجوان کو ڈبو کر مار ڈالا۔ گزشتہ20 دنوں میں یہ ہندؤوں کا ساتواں قتل ہے، جس نے پورے ملک میں اقلیتوں کی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بنگلہ دیش میں وقت گزر رہا ہے، دن اور ہفتے بدل رہے ہیں، اضلاع اور نام الگ الگ ہیں، لیکن ہر واقعے میں ایک بات مشترک نظر آ رہی ہے کہ نشانہ بننے والے لوگ ہندو ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا یہ واقعات الگ الگ ہیں یا پھر یہ ایک سوچی سمجھی اور منظم سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خوف پھیلانا اور اقلیتوں کو خاموش کرانا ہے۔
خوف اور عدم تحفظ کا ماحول
ہندو برادری میں خوف اور غیر یقینی کی فضا قائم ہے۔ بنگلہ دیش کے اقلیتی فورم کا کہنا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد انتہائی تشویشناک رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ لوگوں میں خوف ہے اور مستقبل کے حوالے سے بے یقینی گہری ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ انتظامیہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی برادری آخر خاموش کیوں ہے۔
اقلیتی فورم کے مطابق، 2 جنوری کو ستیہ رنجن داس کا قتل، تین جنوری کو کھوکن چندر داس کا قتل، چار جنوری کو شبھو پوددار کا قتل اور پانچ جنوری کو رانا پرتاپ بیراغی کا قتل ہوا۔ ان واقعات کے بعد اب متھن سرکار کے قتل نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ فورم کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے پارلیمانی انتخابات قریب آ رہے ہیں، فرقہ وارانہ تشدد میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ صرف دسمبر کے مہینے میں ہی کم از کم 51 پرتشدد واقعات درج کیے گئے۔
قتل، لوٹ مار، آگ زنی اور مظالم
اقلیتی فورم کی رپورٹ کے مطابق، ان واقعات میں شامل ہیں۔
- دس قتل۔
- دس چوری اور ڈکیتی کے واقعات۔
- گھروں، دکانوں، مندروں اور زمینوں پر قبضہ، لوٹ مار اور آگ زنی کے 23معاملات۔
- مذہب کے نام پر جھوٹے الزامات، توہین مذہب اور را کا ایجنٹ بتا کر حراست اور تشدد کے چار معاملات۔
- ایک زیادتی کی کوشش۔
- تین جسمانی حملے۔
جنوری میں بھی تشدد جاری
جنوری کے مہینے میں بھی تشدد کا سلسلہ نہیں رکا ہے۔ دو جنوری کو لکشمی پور میں ستیہ رنجن داس کی تقریباً چھیانوے ڈیسیمل زمین پر کھڑی دھان کی فصل جلا دی گئی۔ تین جنوری کو شریعت پور میں کھوکن چندر داس کو انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا، پہلے کاٹا گیا اور پھر آگ لگا دی گئی۔ اسی دن چٹاگانگ کے بوال کھالی سب ضلع میں ملن داس کے گھر میں ڈکیتی ہوئی اور پورے خاندان کو یرغمال بنا لیا گیا۔ کوملا کے ہومنا علاقے میں سانو داس کے گھر میں بھی لوٹ مار کی گئی۔
بیوہ خاتون کے ساتھ غیر انسانی جرم
چار جنوری کو ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا۔ جھینداہ کے کلی گنج علاقے میں 40سالہ ہندو بیوہ خاتون کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ ملزمان نے خاتون کو درخت سے باندھا، اس کے سر کے بال مونڈ دیے اور بے رحمی سے تشدد کیا۔ اس واقعے نے انسانیت کو شرمسار کر دیا۔