Latest News

ایران سے بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ نے مشرق وسطی میں تعینات کیا ایئر کرافٹ کیریئر، تہران نے دی سخت وارننگ

ایران سے بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ نے مشرق وسطی میں تعینات کیا ایئر کرافٹ کیریئر، تہران نے دی سخت وارننگ

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ نے مشرقِ وسطی کے سمندری خطے میں ایک بڑا فوجی قدم اٹھایا ہے۔ امریکہ نے پیر کو بتایا کہ اس کا ایک طاقتور بحری اسٹرائیک گروپ، جس کی قیادت ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن  (USS Abraham Lincoln ) کر رہا ہے، مشرقِ وسطی کے آبی علاقے میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی تو وہ سخت جواب دے گا۔
ایران میں حکومت مخالف مظاہرے اور شدید تشدد
ایران میں دسمبر کے آخر سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ ابتدا میں یہ مظاہرے مہنگائی اور اقتصادی مسائل کے خلاف تھے، لیکن آٹھ جنوری کے بعد یہ تحریک اسلامی جمہوریہ کے خلاف ایک بڑے عوامی احتجاج میں تبدیل ہو گئی۔ کئی دنوں تک سڑکوں پر بڑی تعداد میں لوگ دیکھے گئے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے ان مظاہروں کو دبانے کے لیے بے مثال تشدد کا استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے انٹرنیٹ بند ہونے کی صورت میں براہِ راست مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔ ایران میں یہ انٹرنیٹ بندش گزشتہ اٹھارہ دنوں سے جاری ہے، جسے اب تک کا سب سے طویل بلیک آؤٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد پر مختلف دعوے
امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ اب تک5848  افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 209 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ مزید 17 ہزار 91ممکنہ ہلاکتوں کی جانچ کر رہی ہے، یعنی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اب تک41283  افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب ایران کی حکومت نے پہلی مرتبہ سرکاری اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ3117  افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکومت کا دعوی ہے کہ ان میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار یا پھر فسادیوں کے تشدد میں مارے گئے عام شہری تھے۔ انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے اصل حالات دنیا کے سامنے نہیں آ پا رہے اور حکومت اپنے مؤقف کی تشہیر کر رہی ہے۔
امریکہ کی فوجی تعیناتی اور ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ہی ایران کو خبردار کر چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ خطے میں ایک بڑا بحری بیڑا بھیج رہا ہے تاکہ کسی بھی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ اب یو ایس ایس ابراہم لنکن کی آمد سے خطے میں امریکہ کی فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یہ اسٹرائیک گروپ مشرقِ وسطی میں سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ نے جون میں اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف بارہ دن تک جاری رہنے والی جنگ میں اس کی حمایت کی تھی۔ تاہم حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے براہِ راست فوجی کارروائی سے کچھ پیچھے ہٹنے کے اشارے دیے ہیں، لیکن انہوں نے اس اختیار کو کبھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
ایران کی سخت وارننگ
ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حملے کا ' وسیع اور پچھتاوا کرانے والا جواب'  دیا جائے گا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کو اپنی فوجی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور وہ کسی بھی دبا ؤکے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے ایئرکرافٹ کیریئر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جنگی جہازوں کی موجودگی ایران کے اپنے ملک کے دفاع کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتی۔
تہران میں امریکہ مخالف پیغام
ایران کے دارالحکومت تہران کے انقلاب اسکوائر میں امریکہ مخالف ایک نیا ہورڈنگ نصب کیا گیا ہے، جس میں ایک امریکی ایئرکرافٹ کیریئر کو تباہ ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس پر انگریزی میں لکھا ہے کہ'If you sow the wind, you will reap the whirlwind'  (اگر آ پ ہوا بوئیں گے تو طوفان کاٹو گے) ۔ ایرانی بحریہ کے سربراہ شہرام ایرانی نے کہا کہ ایران کی بحری طاقت صرف دفاعی نہیں بلکہ پورے خطے میں استحکام برقرار رکھنے والی قوت ہے۔
علاقائی ردِعمل اور عالمی تشویش
لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے ایران کے حق میں ریلی نکالی۔ تنظیم کے رہنما نعیم قاسم نے خبردار کیا کہ اگر اس بار ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو پورا خطہ آگ میں جھلس جائے گا۔ دوسری جانب ایران کے ہمسایہ ملک متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے علاقے سے ایران پر کسی بھی حملے کی اجازت نہیں دے گا، حالانکہ وہاں امریکہ کا ایک بڑا فضائی اڈہ موجود ہے۔
یورپ سے سخت مؤ قف کا مطالبہ
اٹلی کے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کی انقلابی گارڈز کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے، جیسا کہ امریکہ اور کینیڈا پہلے ہی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ اس پر سخت قدم اٹھایا جائے۔
 



Comments


Scroll to Top