سیول:شمالی کوریا نے کوریائی جزیرہ نما اور جاپان کے درمیان مشرقی سمندر میں متعدد مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب شمالی کوریا ایک اہم سیاسی اجلاس سے قبل اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کر رہا ہے۔جنوبی کوریائی فوج کے مطابق یہ میزائل دارالحکومت پیانگ یانگ کے شمال مشرقی علاقے سے داغے گئے تھے۔ہر میزائل نے تقریباً 350 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔
جاپان کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ دو بیلسٹک میزائل کوریائی جزیرہ نما کے مشرقی ساحل پر گرے۔جاپان کی وزارت دفاع نے اس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ تجربات جاپان، خطے اور پوری عالمی برادری کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔جنوبی کوریا کی فوج نے بھی کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
بڑھتی کشیدگی اور تزویراتی وجوہات۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ا±ن ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کر کے امریکا سے رعایتیں حاصل کرنے کے لیے دباو¿ بنانا چاہتے ہیں۔جنوری کے آخر یا فروری میں ہونے والی ورکرز پارٹی کی کانفرنس سے قبل جنوبی کوریا کے خلاف دشمنی کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سال 2019 کے بعد سے جب مذاکرات رکے ہیں، شمالی کوریا مسلسل ہائپرسونک میزائلوں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں اور جوہری آبدوزوں کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔