انٹرنیشنل ڈیسک: امریکی فوج نے ہفتے کے روز شام میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس آئی ایس)کے خلاف ایک بار پھر زوردار جوابی کارروائی کی ہے۔ یہ حملہ اس مہلک حملے کے بدلے میں کیا گیا ہے جو گزشتہ ناہ پامائرا میں ہوا تھا اور جس میں امریکی فوج کے دو اہلکار اور ایک امریکی شہری مترجم ہلاک ہو گئے تھے۔
امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، یہ حملے امریکی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر30 منٹ پر کیے گئے۔ امریکی فوج نے اپنے اتحادی ممالک کی افواج کے ساتھ مل کر شام کے کئی علاقوں میں آئی ایس آئی ایس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں آئی ایس آئی ایس کے ٹھکانے، اسلحہ کے مراکز اور ان کے نیٹ ورک کو ہدف بنایا گیا۔

یہ حملہ کیوں ہوا
یہ حملہ اس دہشت گردانہ واقعے کا بدلہ ہے جو گزشتہ ماہ پامائرا میں پیش آیا تھا، جس میں آئی ایس آئی ایس نے گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔
اس حملے میں ہلاک ہوئے تھے:
سارجنٹ ایڈگر برائن ٹوریس ٹووار۔
سارجنٹ ولیم نتھانیئل ہاورڈ۔
ایاد منصور سکت، ایک امریکی شہری مترجم۔
دونوں فوجی آئیووا نیشنل گارڈ ( Iowa National Guard)کے رکن تھے۔
اگر ہمارے فوجیوں کو نقصان پہنچایا گیا تو دنیا کے کسی بھی کونے سے ڈھونڈ کر ماریں گے: امریکہ
سینٹرل کمانڈ نے سخت الفاظ میں کہا کہ ہمارا پیغام بالکل واضح ہے، اگر آپ ہمارے فوجیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو ہم آپ کو دنیا کے کسی بھی کونے سے ڈھونڈ نکالیں گے اور مار گرائیں گے، چاہے آپ بچنے کی کتنی ہی کوشش کریں۔
آپریشن کا نام، آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک(Operation Hawkeye Strike )
امریکی حکومت نے پامائرا حملے کے جواب میں شروع کیے گئے اس فوجی اقدام کو آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک کا نام دیا ہے۔ اس آپریشن کی شروعات 19 دسمبر کو ہوئی تھی جب امریکہ نے شام کے وسطی حصے میں آئی ایس آئی ایس کے 70 ٹھکانوں پر بڑے حملے کیے تھے۔ ان ٹھکانوں میں دہشت گردی کا ڈھانچہ، اسلحہ اور عملیاتی مراکز موجود تھے۔
آئی ایس آئی ایس کے خلاف جنگ ا بھی جاری ہے
اگرچہ آئی ایس آئی ایس پہلے کے مقابلے میں کمزور ہو چکا ہے، لیکن وہ اب بھی شام اور آس پاس کے علاقوں میں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اسے مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے مسلسل فضائی حملے اور فوجی کارروائیاں کر رہے ہیں۔