Latest News

ایران پر امریکہ کی سب سے تیز ایئر اسٹرائیک کی تیاری، برطانیہ کے ملٹری ایئر بیس سے بی 1 بمبار طیارے روانہ

ایران پر امریکہ کی سب سے تیز ایئر اسٹرائیک کی تیاری، برطانیہ کے ملٹری ایئر بیس سے بی 1 بمبار طیارے روانہ

انٹر نیشنل ڈیسک: مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے درمیان امریکہ نے ایران پر اب تک کے سب سے شدید فضائی حملوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔ منگل کو امریکی بی 1  لینسر بمبار  ( B-Lancer bomber ) طیاروں نے برطانیہ کے ایک فوجی ہوائی اڈے سے پرواز بھری اور ایران کے کئی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی اس بیان کے چند ہی گھنٹوں بعد ہوئی جس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ یہ مہم اب تک کا سب سے شدید اور سخت دن دیکھنے والی ہے۔
امریکی فوج نے لگاتار حملے شروع کر دیے
امریکی حکام کے مطابق فوج نے ایران کے میزائل ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر مسلسل کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ان حملوں کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران میں رات بھر زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ کئی علاقوں میں مسلسل بمباری ہوئی اور بجلی بھی بند ہو گئی۔ کچھ رہائشیوں کے مطابق آدھی رات کے قریب تقریبا آدھے گھنٹے تک زمین ہلتی محسوس ہوئی جس سے لوگوں میں خوف پھیل گیا۔
برطانیہ کے ہوائی اڈے کے استعمال پر پہلے تھی ہچکچاہٹ 
امریکہ نے ان حملوں کے لیے برطانیہ کے فوجی ہوائی اڈے کا استعمال کیا۔ شروع میں کیئر اسٹارمر کی حکومت نے اس پر کچھ ہچکچاہٹ دکھائی تھی۔ تاہم بعد میں برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ کے فوجی اڈوں کو ایران کے میزائل پروگرام سے جڑے اہداف پر حملے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن جنگ کے دوسرے اہداف کے لیے نہیں۔
اسرائیل نے بھی دباؤ بڑھا دیا
اسی دوران اسرائیل بھی ایران پر فوجی دبا ؤبڑھا رہا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا کہ اس جنگ کا بڑا مقصد ایران کی موجودہ حکومت کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔ انہوں نے کہا ہم ان کی طاقت توڑ رہے ہیں اور ان کے ڈھانچے کو کمزور کر رہے ہیں۔
ایران نے سخت انتباہ دیا
دوسری طرف ایران کے رہنماؤں نے پیچھے ہٹنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف  (Mohammad Bagher Qalibaf) نے جنگ بندی کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔ جبکہ سینئر رہنما علی لاریجانی نے سماجی رابطے کی ویب گاہ پر ڈونالڈ ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی دھمکی سے ڈرنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں کئی طاقتیں ایران کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
امریکہ میں بھی جنگ پر اختلاف
تاہم امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کو لے کر سیاسی اختلاف سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی سینیٹر مارک کیلی نے ٹرمپ حکومت کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس واضح مقصد، وقت کی حد یا جنگ سے نکلنے کا منصوبہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر واضح حکمت عملی نہ ہوئی تو یہ جنگ لمبے وقت تک چل سکتی ہے اور اس کے سنگین عالمی نتائج ہو سکتے ہیں۔
 



Comments


Scroll to Top