National News

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھارت کے تعلیمی ماڈل کی کھل کر تعریف، آکسفورڈ کے طلبائ نے کہا - دنیا کو بھارت سے کچھ سیکھنا چاہیے

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھارت کے تعلیمی ماڈل کی کھل کر تعریف، آکسفورڈ کے طلبائ نے کہا - دنیا کو بھارت سے کچھ سیکھنا چاہیے

انٹرنیشنل ڈیسک: اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر بھارت کے تعلیمی نظام کو لے کر مثبت گفتگو سامنے آئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران آکسفورڈ یونیورسٹی کی دو طالبات نے بھارت کے جامع اور عملی تعلیمی نظام کی کھل کر تعریف کی۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی طالبہ زوئی بارکلے نے گفتگو کے دوران کہا کہ بھارت کے نوجوان اکثر بہت زیادہ پرعزم اور محنتی ہوتے ہیں کیونکہ انہیں مواقع آسانی سے نہیں ملتے۔ ان کے مطابق یہی صورتحال طلبہ کو تخلیقی انداز میں سوچنے اور نئے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
بارکلے نے کہا کہ تعلیم میں صرف تعلیمی پڑھائی ہی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ مہارتیں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑھئی کاری، سلائی اور دیگر فنی کاموں کو بھی دفتری ملازمتوں جتنا ہی احترام ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق مغربی ممالک، خاص طور پر برطانیہ کو اس متوازن تعلیمی ماڈل سے سیکھنا چاہیے۔انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت کے تعلیمی نظام میں مہاتما گاندھی کے خیالات کا اثر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس سوچ کے مطابق تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرنا نہیں بلکہ شخصیت کی نشوونما، زندگی کی عملی مہارتوں اور سماجی ذمہ داری کو فروغ دینا بھی ہے۔
دونوں طالبات نے اکشر فاونڈیشن کے کام کی خاص طور پر تعریف کی جو آسام میں تعلیم کے شعبے میں سرگرم ہے۔ یہ ادارہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے کچھ اصولوں کو نافذ کر رہا ہے، جن میں ہم جماعتوں کے ذریعے تعلیم، رہنمائی اور صلاحیت کی بنیاد پر جماعتوں کا تعین شامل ہے۔اس ماڈل میں بڑے طلبہ چھوٹے طلبہ کو پڑھاتے ہیں، جس سے نہ صرف تعلیم میں مدد ملتی ہے بلکہ مکالمہ، ہمدردی اور قیادت جیسی صلاحیتیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ اس طریقے سے اساتذہ پر دباو بھی کم ہوتا ہے اور طلبہ کے درمیان تعاون کا جذبہ بڑھتا ہے۔
فاو¿نڈیشن ان بچوں کو بھی تعلیم سے جوڑنے پر توجہ دیتی ہے جو پہلے کم عمری میں مزدوری یا کم عمر شادی جیسی مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ طلبہ کو اپنی رفتار کے مطابق آگے بڑھنے کی سہولت دے کر تعلیم میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی میڈیکل (طب) کی طالبہ پیٹرینا لینڈر نے کہا کہ مستقبل کے پیشوں کے لیے تعلیم میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور تکنیکی مہارتوں کو شامل کرنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آسام میں اکشر فاونڈیشن کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے دیکھا کہ جامع تعلیم کس طرح کمزور اور غریب بچوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔



Comments


Scroll to Top