نیشنل ڈیسک: نئی دہلی لوک سبھا حلقہ کی رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج نے عام آدمی پارٹی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سوشل میڈیا اکاو¿نٹ ‘X’ پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پنجاب کیسری گروپ کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا۔بانسری سوراج نے کہا کہ 31 اکتوبر 2025 کو پنجاب کیسری گروپ نے ایک مضمون شائع کیا تھا، جس میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروِند کیجریوال کی تنقید کی گئی تھی۔ اس تنقید سے ناخوش ہو کر عام آدمی پارٹی کی حکومت نے انتقام کی سوچ کے تحت کارروائی شروع کر دی۔
پہلے اقتصادی دباو، پھر سرکاری نظام کا استعمال
رکن پارلیمنٹ کے مطابق، جنوری سے پہلے ہی پنجاب کیسری پر economic coercion یعنی اقتصادی دباوڈالنے کی کوشش کی گئی۔ سب سے پہلے سرکاری اشتہارات پر پابندی لگائی گئی، تاکہ میڈیا گروپ کو اقتصادی طور پر کمزور کیا جا سکے۔
آپ سب اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ 31 اکتوبر 2025 کو پنجاب کیسری گروپ نے ایک آرٹیکل شائع کیا تھا، جس میں انہوں نے اروِند کیجریوال کی تنقید کی تھی۔
اس تنقید سے ناخوش ہو کر عام آدمی پارٹی کی حکومت نے بڑے ہی منظم طریقے سے 11 سے لے کر 15 جنوری میں تمام سرکاری نظام کا غلط استعمال کیا۔
11 سے 15 جنوری کے درمیان ایک کے بعد ایک چھاپے
بانسری سوراج نے الزام لگایا کہ اس کے بعد 11 جنوری سے 15 جنوری کے درمیان حکومت نے تمام سرکاری نظام کا غلط استعمال کیا۔ اس دوران تقریباً 9 مختلف محکموں اور ایجنسیوں کو استعمال کر کے پنجاب کیسری کے مختلف مقامات پر چھاپے کروائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح میڈیا ادارے پر دباوڈالنا اور اسے ڈرانے کی کوشش کرنا نہایت سنگین اور جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔
جمہوریت اور پریس کی آزادی پر سوال
رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج نے اس پورے واقعے کو پریس کی آزادی پر براہِ راست حملہ بتایا اور کہا کہ اگر حکومت کی تنقید کرنے پر میڈیا کو اس طرح نشانہ بنایا جائے گا، تو یہ جمہوری اقدار کے لیے انتہائی تشویشناک اشارہ ہے۔